Express News:
2026-06-03@04:06:47 GMT

پی ٹی آئی امریکا میں اختلافات

اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT

بانی تحریک انصاف نے تحریک انصاف کی بین الا قوامی لابنگ کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی 18مارچ کو تحلیل کر دی تھی۔ اس کمیٹی میں امریکا سے عاطف خان، سجاد برکی ،شہباز گل، لندن سے زلفی بخاری شامل تھے۔ اگر دیکھا جائے تو اس کمیٹی نے کافی اچھا کام کیا تھا۔ اس کو تحلیل کرنے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آئی تھی۔ یہ درست ہے کہ ٹرمپ سے جو امیدیں باندھی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہوئی ہیں۔ لیکن پھر بھی تحریک انصاف امریکا نے لابنگ کے حوالے سے امریکا میں کافی اچھا کام کیا ہے۔ انھوں نے پاکستان کو کافی پریشان کیا ہے۔

اس تناظر میں اس کمیٹی کا تحلیل ہونا سمجھ نہیں آرہا تھا۔ تا ہم اب صورتحال واضح ہو گئی ہے۔ امریکا میں لابنگ کے لیے تحریک انصاف نے ایک اور تنظیم قائم کی تھی۔ یہ تنظیم 2022میں پاکستان میں بانی تحریک انصاف کی عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد قائم کی گئی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد حکومت پاکستان اور بالخصوص پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے خلاف امریکا میں لابنگ کرنا تھا۔ کیونکہ یہ کام تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھی ساری فنڈنگ اسی پلیٹ فارم سے کی گئی تھی۔ بلکہ لارا ٹرمپ سے ملاقات بھی کی ہوئی تھی۔ جسے تحریک انصاف اپنی ملاقات بتاتی تھی۔ اس لیے بہت کم لوگ پاکستان میں جانتے ہونگے کہ امریکا میں لابنگ اس تنظیم کے ذریعے سے کی جا رہی تھی۔ بائیڈن دور میں کانگریس کی قرار داد بھی اسی تنظیم کا کام تھا۔ اس لیے یہ تنظیم اب کافی فعال ہو چکی ہے۔ اس نے امریکا میں اپنی ایک پہچان بنا لی ہے۔

اس تنظیم کے چار بڑے عہدیدار جن میں ڈاکٹر عثمان، ڈاکٹر منیر، ڈاکٹر سائرہ بلال شامل تھے، نے 15مارچ کو پاکستان کا دورہ کیا اور اس دورے کے دوران پاکستان کے اہم لوگوں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں امریکا سے ڈاکٹر تنویر احمد بھی شامل تھے۔ انھوں نے ملک کے معروف تعلیمی ادارے کو خاصی رقم بطور عطیہ بھی دی تھی۔

اس لابنگ تنظیم کے عہدیداروں کا دورہ پاکستان اور یہاں اہم ملاقاتیں یقیناً تحریک انصاف کے ان حلقوں کے لیے بہت پریشانی کا باعث ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کے حق میں ہیں جو امریکا کی مدد سے پاک فوج کو شکست دینے کے خواہاں ہیں۔ اب سمجھ آرہی ہے کہ اس دورہ کی وجہ سے انٹرنیشنل ریلیشن کے لیے قائم کی گئی کمیٹی تحلیل کی گئی۔ وہ پندرہ مارچ کو آئے اور تحریک انصاف امریکا نے بانی تحریک انصاف کو اطلاع کر دی اور انھوں نے کمیٹی ہی توڑ دی۔

ایک سوال یہ ہو سکتا ہے کہ دورہ تو لابنگ فرم کے عہدیداران نے کیا ہے۔ پھر تحریک انصاف کے عہدیداران کو کیوں سزا دی گئی۔ لیکن اب اس سوال کا جواب بھی سامنے آگیا ہے۔ اس لابنگ فرم کے عہدیداروں نے دورہ پاکستان کے بعد امریکا پہنچ کر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی امریکا کی قیادت کی اجازت سے اور انھیں اعتماد میں لے کر پاکستان گئے تھے۔ انھوں نے جو بھی ملاقاتیں کی ہیں وہ تحریک انصاف امریکا کی قیادت کو اعتماد میں لے کر اور ان کی اجازت سے کی ہیں۔

اب لگتا ہے کہ بانی تحریک انصاف کو یہ سب پسند نہیں آیا تھا اور وہ لابنگ فرم کے ان عہدیداران کو تو کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ وہ تحریک انصاف کے ڈسپلن میں نہیں ہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنی کمیٹی ہی توڑ دی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کو دو فتح مل گئیں۔ ایک تو لابنگ فرم کے لوگ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات میں آگئے۔

ان سے رابطے بن گئے دوسرا تحریک انصاف امریکا میں بھی لڑائی ہوگئی۔ بہرحال یہ ایک بڑی پیش رفت ہے جو شائد پاکستان میں اس طرح زیر بحث نہیں ہے جیسے امریکا میں پاکستانی کمیونٹی میں زیر بحث ہے۔ وہاں تو ایک طوفان آیا ہوا ہے۔ امریکا میں پاکستانی کمیونٹی میں عید پر جس سے بھی بات ہوئی ہے اس نے اسی پر بات کی ہے۔یہی لابنگ تنظیم ہی متنازعہ ڈیموکریس ایکٹ کے لیے بھی لابنگ کر رہی تھی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سارے یوٹیوبرز اس لابنگ تنظیم کے خلاف ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر کو غدار کے نام کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ بیچارے اپنی صفائیاں دے رہے ہیں۔

یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ اگر سو سال بھی لڑائی چل جائے تو آخر میں مذاکرات ہی ہونے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر مذاکرات کا موقع ملا ہے تو اسے کیوں نہیں چانس دینا چاہیے۔ لیکن یوٹیوبرز مان ہی نہیں رہے۔ انھیں تو مل گیا ہے۔ اب وہاں یہ ماحول بن گیا ہے کہ لابنگ فرم نے امریکا میں اب تک جو بھی کام کیا ہے وہ سب زیرو ہو گیا ہے۔ تنظیم کی ساکھ پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف امریکا کی قیادت بھی غدار ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف کی شاندار بات یہ بھی ہے کہ اب وہ مخالفین سے زیادہ اپنے لوگوں کو ہی ٹارگٹ کرتی ہے۔ سیاسی مخالفین کی بجائے اپنے لوگ ہی ان کے نشانے پر رہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ٹرول مان ہی نہیں رہے۔ وہ انھیں غدار ہی کہہ رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ہوتے کون ہیں مذاکرات کرنے والے۔ لیکن ان کا موقف ہے کہ لابنگ کے کھیل میں مذاکرات بنیادی جزو ہیں۔

امریکا میں مقیم عام پاکستانی اس ملاقات کو کیسے دیکھ رہا ہے یہ ایک الگ سوال ہے۔ کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہاں سے مزید پاکستانیوں کے وفود بھی پاکستان آرہے ہیں۔ ان سے بھی پاکستان کے اہم لوگ ملیں گے۔ یہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سب اہم لوگوں سے ملاقاتیں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یقیناً یہ سب تحریک انصاف کے لیے دھچکا ہے۔ وہ اس سب کو اپنے سوشل میڈیا ٹرولنگ کی طاقت سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو ابھی تک کامیاب نظر نہیں آرہی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف امریکا بانی تحریک انصاف تحریک انصاف کی تحریک انصاف کے لابنگ فرم کے امریکا میں امریکا کی لابنگ کے تنظیم کے انھوں نے رہے ہیں کی گئی اس لیے گیا ہے نہیں ا کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار