بنگلہ دیشی رہنما ڈاکٹر یونس اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی ملاقات ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے رہنما سے ملاقات کی، ہندوستانی حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ڈھاکہ میں انقلاب کے نتیجے میں نئی دہلی کی دیرینہ ساتھی شیخ حسینہ واجد کی بے دخلی کے بعد یہ بھارتی وزیر اعظم کی نئے بنگلہ دیشی حکمران سے پہلی ملاقات ہے۔
مودی کی بنگلہ دیش کے عبوری رہنما اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کے ساتھ ملاقات تھائی لینڈ میں علاقائی سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
ڈاکٹر محمد یونس نے بھی سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں وہ مودی سے مصافحہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
دونوں افراد نے جمعرات کی شب بنکاک میں BIMSTEC بلاک کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ عشائیہ کیا۔ دونوں ہمسائیہ ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔
ڈاکٹر یونس نے اگست 2024 میں بنگلہ دیش کی زمام کار سنبھالی جب ہندوستان کی پرانی حلیف شیخ حسینہ واجد کو طلباء کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے ذریعے وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور وہ نئی دہلی فرار ہو گئی تھیں۔
معروف عرب اخبار ’ عرب نیوز‘ نے لکھا ہے کہ بھارت حسینہ واجد حکومت کا سب سے بڑا محسن تھا، اور اس حکومت کا تختہ الٹنے سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں تناؤ آ گیا تھا۔
ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تناؤ کے نتیجے میں دونوں حکومتوں کی اعلیٰ شخصیات کے درمیان سخت بیانات اور اقدامات کا تبادلہ ہوا تھا۔
حسینہ واجد، جو اس وقت بھارت ہی میں رہائش پذیر ہیں، کو بنگلہ دیش کی انقلابی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر قتل سمیت دیگر الزامات کا سامنا ہے، ڈھاکہ کی طرف سے ان کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے تاہم اب تک بھارت نے ایسی تمام درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر یونس کی نگراں حکومت کو جون 2026 تک ہونے والے تازہ انتخابات سے قبل جمہوری اصلاحات نافذ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت ڈاکٹر محمد یونس نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت ڈاکٹر محمد یونس بنگلہ دیش
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔