پراپرٹی مالکان ہوجائیں خبردار! حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پراپرٹی ٹیکس جمع کروالیں ورنہ گرفتار ہوجائیں گے، پنجاب بھر میں بڑے ڈیفالٹرز کو گرفتار کرکے ٹیکس ریکوری کاحکم دے دیا گیا۔
مالی سال کے آخری 2ماہ ڈی جی ایکسائزعمر شیر چٹھہ نے سخت کارروائیوں کا حکم دے دیا، ڈی جی یکسائز کا کہنا تھا کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں 42ارب سے زائد کا ہدف حاصل کیا۔
رواں مالی سال میں ابتک گزشتہ مالی سال کی نسبت 9ارب زائد وصول ہوچکے ہیں، 56 ارب سے زائد کے ٹارگٹ کےلئے حصول کے لئے سخت فیصلے کئے۔
عمر شیر چٹھہ کا کہنا تھا کہ موٹر ٹیکس میں 100 فیصد کے قریب پہنچ گئے ہیں،پراپرٹی ٹیکس میں بہتری کےلئے بڑے ڈیفالٹرز کی گرفتاریوں کاحکم دیا گیا۔
ریکوری ہدف حاصل نہ کرنے والے انسپکٹرز اور ای ٹی اوز کو عہدوں سے ہٹایا جائے گا، گزشتہ ماہ 3 ارب کی ڈیفالٹرز77ہزار پراپرٹیز کو سربمہر کر کے ابتک1 ارب سےزائد کی وصولی کی۔
عمر شیر چٹھہ کا مزید کہنا تھا کہ سربمہر پراپرٹیز کوخود ڈی سیل کرنے والوں کے خلاف درجنوں مقدمات درج ، ڈائریکٹرز بھی وصولی کے لئے خود 2ماہ میں فیلڈ میں موجود رہیں۔
مزیدپڑھیں:دادو :محبت نے قانون کی زنجیریں توڑ دیں، ایس ایچ او اور اے ایس آئی رشتہ ازدواج میں منسلک
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔