کشمیری خواتین کیخلاف مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے، کشمیر وومن کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبرویزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بھارتی فورسز کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز برسلز میں کشمیر کونسل یورپ کے زیراہتمام ”انٹرنیشنل وومن کانفرنس“ کے مقررین نے کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یورپی پریس کلب برسلز میں منعقدہ کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں خواتین پر ہونے والے مظالم کا پردہ چاک کیا گیا۔کانفرنس کے مقررین میں چیئرمین کشمیر کونسل یورپ علی رضا سید، یورپی خاتون ایلا فاروقی، کشمیری خاتون اسکالر آمنہ اقبال اور نوجوان کشمیری دانشور وصی سید شامل تھے۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض انسانی حقوق کی کارکن نوین قیوم نے انجام دیے۔ مقررین نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز منظم طریقے سے خواتین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ 1991ء میں کنن پوشپورہ میں سو کے لگ بھگ خواتین کی اجتماعی آبروریزی کا دلدوز واقعہ اور 2009ء میں آسیہ اور نیلوفر کی آبروریزی اور بہیمانہ قتل جیسے دردناک واقعات آج بھی کشمیریوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ مجرم بھارتی فوجی آزادانہ گھوم رہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبرویزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بھارتی فورسز کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں۔ کانفرنس میں 30 سے زائد خواتین نے شرکت کی، جنہوں نے کشمیری خواتین کے حق میں آواز بلند کی اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خواتین سمیت کشمیریوں پر مظالم کے بارے میں اپنی خاموشی توڑے، مظالم بند کروائے اور انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز اور محمد یاسین ملک سمیت تمام کشمیری اسیران کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے۔چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے اس موقع پر کہا کہ امن کا تعلق انصاف سے ہے اور جب تک کشمیریوں کو انصاف نہیں مل جاتا تب تک جنوبی ایشیا میں دیرپا خوشحالی اور پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی فورسز خواتین کی نے کہا کہ
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔