بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کا مستونگ کے علاقے لک پاس میں دھرنا جاری ہے، جبکہ حکومتی وفد اور اختر مینگل کے درمیان مذاکرات کی آخری کوشش بے نتیجہ ختم ہوگئی ہے۔

مذاکرات کے لیے حکومتی وفد کی قیادت سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کی، اور بلا مشروط دھرنا ختم کرنے کی پیشکش کی۔

یہ بھی پڑھیں اختر مینگل کے بعد جمہوری وطن پارٹی نے بھی لانگ مارچ کا اعلان کر دیا

بی این پی رہنما ساجد ترین کے مطابق بی این پی نے حکومتی وفد کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے، تاہم اب بلوچستان یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین اور افراد کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے کہاکہ سردار اختر مینگل نے کل 6 اپریل کو کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، لک پاس سے کل 9 بجے لانگ مارچ کوئٹہ کا رخ کرےگا۔

ساجد ترین نے کہاکہ کوئٹہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر حمایت یافتہ جماعتوں کے کارکنان لک پاس کی جانب مارچ کریں گے۔

دریں اثنا بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حقوق تسلیم کیے بغیر ملک چلانا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہاکہ وطن کے وسائل پر تمام قومیتوں کا حق ہے، یہ سرزمین ہمیں کسی نے خیرات میں نہیں دی، آباؤاجداد کی قربانیوں سے حاصل کی ہے۔

اختر مینگل نے کہاکہ جب ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے گا تو ملک چلے گا، ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے، آئین میں رہ کر ملک چلائے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں بلوچستان حکومت ڈائیلاگ کے لیے تیار، سردار اختر مینگل تعاون کریں: ترجمان صوبائی حکومت

انہوں نے کہاکہ عام انتخابات میں 23 کروڑ عوام کے مینڈیٹ پر شب خون مار کر شہباز شریف کو مسلط کردیا گیا، یہ وطن ہمارا ہے، اور وطن کے دفاع پر ہمیں دہشتگرد کہا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئینی حقوق اختر مینگل کوئٹہ لانگ مارچ لک پاس دھرنا ماہ رنگ بلوچ مذاکرات بے نتیجہ ملکی وسائل وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختر مینگل کوئٹہ لانگ مارچ لک پاس دھرنا ماہ رنگ بلوچ مذاکرات بے نتیجہ ملکی وسائل وی نیوز اختر مینگل حکومتی وفد لانگ مارچ نے کہاکہ لک پاس

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف