پی ٹی ائی انٹرنل اکاونٹیبلٹی کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
پی ٹی ائی انٹرنل اکاونٹیبلٹی کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز )پاکستان تحریک انصاف احتساب کمیٹی کے سربراہ قاضی انور نے پیر کو اجلاس طلب کرلیا، اجلاس میں تیمور سلیم جھگڑا کے کڑے محاسبے کا امکان ہے، تیمور سلیم جھگڑا نے کمیٹی کے خلاف ہرزہ سرائی پر انٹرنل اکاونٹیبلٹی ممبران ناخوش ہے۔پی ٹی ائی انٹرنل اکاونٹیبلٹی کمیٹی چئیرمین نے آج نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا اجلاس میں تیمور سلیم جھگڑا کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
کمیٹی سربراہ قاضی انور نے کہا کہ تیمور جھگڑا نے کمیٹی کے سوالات اور اپنے جوابات میڈیا پر شیئر کئے ہیں۔ انہو نے کہا بابر سلیم سواتی کا کوئی مسئلہ سنجیدہ نہیں ہے۔قاضی انور نے کہا کہ رمضان میں 11 وزرا نے اپنی کارکردگی پر بریفنگ دی، باقی کابینہ کے دیگر 22 ممبران بھی اپنی کارکردگی پر بریفنگ دینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی اجلاس میں ان وزرا کے بارے میں فیصلہ کریگی، وزرا کی کارکردگی رپورٹ بانی چیئرمین کو پیش کیا جائے گی، فیصلہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔