نیتن یاہو نے اس نئے ’’مورَگ کوریڈور‘‘ کا اعلان کیا اور اشارہ دیا کہ یہ جنوبی شہر رفح کو جسے اسرائیل نے خالی کرنے کا حکم دیا ہے، باقی غزہ سے کاٹ دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فوج نے جنوبی غزہ میں ایک نیا ’’سکیورٹی کوریڈور‘‘ قائم کر لیا ہے، جو رفح شہر کو باقی علاقے سے کاٹ دیتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے جنوبی غزہ میں ایک نئے قائم کردہ ’’سکیورٹی کوریڈور‘‘ پر تعیناتی کر دی ہے۔ نیتن یاہو نے اس نئے ’’مورَگ کوریڈور‘‘ کا اعلان کیا اور اشارہ دیا کہ یہ جنوبی شہر رفح کو جسے اسرائیل نے خالی کرنے کا حکم دیا ہے، باقی غزہ سے کاٹ دے گا۔ اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ 36ویں ڈویژن کے فوجی اس کوریڈور میں تعینات ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے شائع کردہ نقشوں کے مطابق یہ نیا راستہ مشرق سے مغرب تک غزہ کے تنگ ساحلی پٹی کے پار پھیلا ہوا ہے۔

مورَگ ایک سابقہ یہودی بستی کا نام ہے، جو رفح اور خان یونس کے درمیان واقع تھی اور نیتن یاہو نے اشارہ دیا ہے کہ یہ کوریڈور انہی دونوں شہروں کے درمیان ہوگا۔ ناقدین کی جانب سے اسرائیل کے اس اقدام کو فلسطین پر نئے قبضے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے، اسرائیلی درندگی کے مناظر نے دیکھنے والوں کے دل لرزا دیئے ہیں، جو انسانیت کے علمبرداروں کے لیے سوالیہ نشان بن گئی۔ اسرائیلی بمباری سے کل سے اب تک مزید 60  سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے، شہداء کی تعداد 50 ہزار سے زائد پہنچ چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیتن یاہو

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل