نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کو گزشتہ ایک سال کے دوران پے در پے طیارہ حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں جدید لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹرز تباہ ہوئے، اور کئی پائلٹ زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارتی فضائیہ کی ناقص تربیت، غیر پیشہ ورانہ رویوں اور تکنیکی خرابیوں کا نتیجہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق فروری 2024 سے اپریل 2025 تک بھارتی فضائیہ کے درجن سے زائد طیارے مختلف حادثات کا شکار ہوئے جن میں ہاک ایم کے-132، لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ، اپاچی ہیلی کاپٹر، سخوئی، مگ 21، مگ 29، اے ایل ایچ ہیلی کاپٹر، میراج 2000، جگوار اور اے این 32 شامل ہیں۔

ہر حادثے کے بعد تکنیکی خرابی کو ذمہ دار قرار دے کر رسمی کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا جاتا ہے، مگر ان رپورٹس کو کبھی منظر عام پر نہیں لایا جاتا، جس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور پائلٹوں کی تربیت دونوں میں ناکام ہو چکی ہے۔ آئے روز ہونے والے حادثات نہ صرف بھارت کی دفاعی تیاریوں کو کمزور ظاہر کرتے ہیں بلکہ اندرونی ناکامیوں اور کرپشن کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت ان حادثات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے اور میڈیا کو ابھینندن جیسے نااہل پائلٹوں کو ہیرو بنانے پر لگا دیتی ہے۔

مودی سرکار کے اقتدار میں کرپشن، ذاتی مفادات اور نااہلی نے بھارتی فضائیہ کو ایک ناقابلِ بھروسہ ادارہ بنا دیا ہے، جو اب خطے کی طاقتور فضائیہ بننے کا خواب پورا کرنے کے بجائے حادثات کی زد میں آ چکی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ