بھارتی جنگی طیارے تابوت بن گئے! ہر مہینے نیا حادثہ، دفاعی ماہرین تشویش میں مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کو گزشتہ ایک سال کے دوران پے در پے طیارہ حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں جدید لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹرز تباہ ہوئے، اور کئی پائلٹ زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارتی فضائیہ کی ناقص تربیت، غیر پیشہ ورانہ رویوں اور تکنیکی خرابیوں کا نتیجہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق فروری 2024 سے اپریل 2025 تک بھارتی فضائیہ کے درجن سے زائد طیارے مختلف حادثات کا شکار ہوئے جن میں ہاک ایم کے-132، لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ، اپاچی ہیلی کاپٹر، سخوئی، مگ 21، مگ 29، اے ایل ایچ ہیلی کاپٹر، میراج 2000، جگوار اور اے این 32 شامل ہیں۔
ہر حادثے کے بعد تکنیکی خرابی کو ذمہ دار قرار دے کر رسمی کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا جاتا ہے، مگر ان رپورٹس کو کبھی منظر عام پر نہیں لایا جاتا، جس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور پائلٹوں کی تربیت دونوں میں ناکام ہو چکی ہے۔ آئے روز ہونے والے حادثات نہ صرف بھارت کی دفاعی تیاریوں کو کمزور ظاہر کرتے ہیں بلکہ اندرونی ناکامیوں اور کرپشن کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت ان حادثات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے اور میڈیا کو ابھینندن جیسے نااہل پائلٹوں کو ہیرو بنانے پر لگا دیتی ہے۔
مودی سرکار کے اقتدار میں کرپشن، ذاتی مفادات اور نااہلی نے بھارتی فضائیہ کو ایک ناقابلِ بھروسہ ادارہ بنا دیا ہے، جو اب خطے کی طاقتور فضائیہ بننے کا خواب پورا کرنے کے بجائے حادثات کی زد میں آ چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ