کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ ملک میں بجلی سستی ہوگی، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک)وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ ملک میں بجلی سستی ہوگی، کہا جارہا تھا کہ ملک دیوالیہ ہوجائے گا، شہباز شریف نے ایک سال میں ناممکن کو ممکن کردکھایا ہے۔
سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پی ٹی آئی سے اقتدار حاصل کیا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے مل کر پاکستان کے لیے امید کی کرن پیدا کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کہا جارہا تھا کہ ڈالر 500 پر پہنچ جائے گا، پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا اور سری لنکا بن جائے گا، کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس ملک میں بجلی سستی ہوجائے گی، انٹرسٹ ریٹ 10 فیصد کم ہوجائے گا، شہباز شریف نے ایک سال میں ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے گھریلو، صنعتی اور کمرشل صارفین کو بجلی کی مد میں ساڑھے سات روپے فی یونٹ کی رعایت کم نہیں ہے، کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ بجلی اس طرح سستی ہوجائے گی اور شہباز شریف وعدے پورے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ افراط زر 38 فیصد سے کم ہوکر ڈیڑھ فیصد رہ جائے گی، ہماری برآمدات بڑھی ہیں، یہ سب معجزے ہیں، امریکا کی اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی ہے اور پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر چلی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے وزیردفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزیر کے خلاف 78 کروڑ کی کرپشن کے خلاف تحریک پیش کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی والوں نے ایک دوسرے کو چور کہنا شروع کردیا ہے، پی ٹی آئی میں جتنےلوگ ہیں اتنے ہی ان کے ٹکڑےہوگئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل فیض اور جنرل باجوہ سیکیورٹی کی میٹنگ میں ہمیں بریفنگ دینے آتے تھے تو عمران خان ہمارے ساتھ نہیں بیٹھتا تھا، ابھینندن والے واقعے کے بعد تین سیکیورٹی میٹنگز ہوئیں، جنرل باجوہ کہتا رہا کہ آ کر میٹنگ کی صدارت کرو مگر یہ نہیں آیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اب عمران خان کہتا ہے کہ جب تک مجھے سیکیورٹی میٹنگ میں نہیں لے کر جاؤگے تو میری پارٹی نہیں جائے گی۔
آپ تضادات دیکھیں، ایک وقت وہ تھا وہ وزیراعظم تھا اور میٹنگوں میں شریک نہیں ہوتا تھا اور آج قیدی نمبر 804 ہے اور کہتا ے کہ مجھے میٹنگ میں لے کر جاؤ، اس سے بڑا تضاد کیا ہوسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مریم نواز پنجاب کو چار چاند لگا رہی ہیں، کام ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں، نواز شریف، یا اس کا بھائی یا اس کی بیٹی جب بھی آئے گی ترقی کے سفر کا آغاز ہوگا، ہم اور ہمارے ساتھی اتنی ہی کمٹمنٹ کے ساتھ کام کررہے ہیں جتنی کمٹمنٹ کے ستھ ہماری لیڈرشپ کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کچھ اضلاع میں دہشت گردی ہورہی ہے، ہمار ی افواج روز قربانیاں دے رہیں اور قربانیوں کی داستان اپنے خون سے لکھ رہی ہیں، یہ ہماری محسن ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ معجزہ ہےکہ ملک میں دہشت گردی کی لہر آئی ہوئی ہے اور پاکستان ترقی کررہا ہے۔
مزیدپڑھیں:پولیس کا ڈانس پارٹی پرچھاپہ، معروف وی لاگر نادیہ جاوید سمیت 55 افراد گرفتار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے کہا کہ جائے گی ملک میں جائے گا کہ ملک
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔