لاہور کے بڑے اسپتالوں میں ادویات اور سہولتوں کے فقدان کی تحقیقات
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
لاہور کے بڑے اسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی اور سہولتوں کے فقدان کی تحقیقات پولیس کی اسپیشل برانچ کو سونپ دی گئی۔
ذرائع اسپیشل برانچ کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کے احکامات کے بعد اسپتالوں کی انسپکشن شروع کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر کے بڑے اسپتالوں میں اسپیشل برانچ کے اہلکار مریضوں اور تیمار داروں سے بھی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسپیشل برانچ کے اہلکار پروفیسرز اور سینئر ڈاکٹرز کا حاضری ریکارڈ بھی اکٹھا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسپیشل برانچ تمام اسپتالوں میں تحقیقات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کو اسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی اور سہولتوں کے فقدان کی شکایات ملی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسپتالوں میں اسپیشل برانچ کے مطابق
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔