کراچی:

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

جاری کردہ بیان میں حق پرست اراکینِ صوبائی اسمبلی نے کہا کہ شہر کا بڑا حصہ 16 گھنٹوں سے زائد وقت تک بجلی سے محروم ہے، کے الیکٹرک نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر شہر میں اجارہ داری قائم کر رکھی ہے جس کا مقصد صرف شہریوں کو لوٹنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد مرتبہ یقین دہانیاں کرانے کے باوجود کے الیکٹرک کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ادارہ مکمل بے حسی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ایم کیو ایم کے اراکینِ اسمبلی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کی معاشی شہ رگ پر ڈھائے جانے والے کے الیکٹرک کے مظالم کو بند کروانے میں فوری کردار ادا کریں۔

حق پرست اراکین نے سوال اٹھایا کہ کیا روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں دھکیلنا کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے؟۔ کے الیکٹرک کے بعض ملازمین کی سرپرستی میں کنڈا مافیا پورے شہر میں سرگرم ہے جس کا بوجھ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔

اراکین نے الزام عائد کیا کہ ترسیلی نظام پر قابض کے الیکٹرک شہریوں کو بنیادی سہولت دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل