وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے خود اپنے لیے مسائل پیدا کیے، بیرون ملک پاکستانیوں کی ملاقات سے معاملات آگے بڑھنے کا امکان نہیں۔ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا عمران خان کو لے ڈوبا ہے، اب تو گالم گلوچ بریگیڈ سے خود تحریک انصاف بھی محفوظ نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان کی ملاقاتوں سے متعلق ہمیں کوئی اندیشہ نہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی ملاقاتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں مسائل کے حل کے لیے عمران خان نے ایک بار پھر ’نیوٹرل امپائر‘ کا مطالبہ کردیا

مشیر وزیراعظم نے کہاکہ عمران خان بگاڑ پیدا کرنے اور مشکلات بڑھانے میں خود کفیل ہیں، انہوں نے ہمیشہ صرف اور صرف پروپیگنڈا کی سیاست کی۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو اگر معاملات آگے بڑھانے ہیں تو 9 مئی پر معافی مانگنا ہوگا، اور یہ بات ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس میں کر چکے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ پی ٹی آئی کو اپنے گھر کے چراغ سوشل میڈیا سے آگ لگی ہے، اعظم سواتی بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کی ملاقات ناکام ہونے کی وجہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم ہے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اب خود ان کے لیے بھی مسئلہ بن گیا ہے، اس بریگیڈ کے ہوتے ہوئے حکومت کو کسی پریشانی کی ضرورت نہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ عمران خان نے جو گڑھا کھودا تھا خود اس میں گر چکے ہیں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا گالم گلوچ بریگیڈ سے خود ان کی پارٹی محفوظ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے پس پردہ رابطوں کا انکشاف

انہوں نے کہاکہ یہی سوشل میڈیا ان کی طاقت تھا، اور یہی ان کو لے ڈوبا، نواز شریف نے درگزر جبکہ عمران خان نے ملک میں نفرت کی سیاست کو پروان چڑھایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اوورسیز پاکستانی ملاقات پی ٹی آئی سوشل میڈیا رانا ثنااللہ عمران خان مسائل مشیر وزیراعظم وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانی ملاقات پی ٹی ا ئی سوشل میڈیا رانا ثنااللہ وی نیوز انہوں نے کہاکہ رانا ثنااللہ سوشل میڈیا پی ٹی ا ئی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف