Express News:
2026-06-02@23:08:58 GMT

فلسطین : بندر کی بلا طویلے کے سر( حصہ اول )

اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT

اگر میں کہوں کہ اسرائیل صیہونیوں نے نہیں بلکہ مغرب نے پیدا کیا اور لاکھوں یہودیوں کو ہٹلر نے نہیں بلکہ یہودیوں کے دوستوں نے گیس چیمبرز میں بجھوایا تو آپ ان دونوں دعووں پر یقین کر لیں گے ؟ کوشش کروں گا کہ آپ خود کسی نتیجے پر پہنچیں۔

ہٹلر تیس جنوری انیس سو تینتیس کو جرمن چانسلر بنا۔ دوسری عالمی جنگ شروع ہونے تک تمام اہم سرمایہ دار اور غیر سرمایہ دار ممالک کے نازی جرمنی سے سفارتی تعلقات رہے۔ان سب نے اگست انیس سو چھتیس میں ہونے والے برلن اولمپکس میں ٹیمیں بھیجیں۔ فرانس اور برطانیہ نے انیس سو اڑتیس میں آسٹریا اور چیکو سلوواکیہ ہٹلر کو تحفے میں دے دیے اور سوویت یونین نے انیس سو چالیس میں نازی جرمنی سے مل کے پولینڈ کو کیک سمجھ کے آدھا آدھا بانٹ لیا۔

 تمام ممالک برلن میں اپنے اپنے سفارت خانوں کے ذریعے بخوبی آگاہ تھے کہ ہٹلر نے کس طرح پہلی عالمی جنگ کے بعد ہونے والے ذلت آمیز معاہدہ ورسائی کو پھاڑ کے ہوا میں پھینک دیا ہے اور جرمنی کو دوبارہ ایک جنگجو عسکری ریاست میں بدلا جا رہا ہے۔کس طرح خالص نسلی برتری کا نازی اژدھا جرمن اقلیتوں کو امتیازی قوانین میں جکڑ رہا ہے۔مگر دنیا شترمرغ ڈپلومیسی پر عمل کرتی رہی۔

جب ہٹلر برسرِ اقتدار آیا تو اس وقت جرمنی میں ساڑھے پانچ لاکھ یہودی ( آبادی کا ایک فیصد) بستے تھے۔اگر جپسی خانہ بدوشوں ، سیاہ فاموں اور ملی جلی نسلوں کے غیر سفید فام غیر آریائی جرمنوں کو بھی شمار کر لیا جائے تو مجموعی تعداد نو لاکھ سے زیادہ نہیں تھی ( یعنی جرمن آبادی کا پونے دو فیصد )۔

ہٹلر نے چانسلر بننے کے نوے روز بعد یکم اپریل انیس سو تینتیس کو یہودیوں کے معاشی بائیکاٹ کی قومی اپیل کی۔اس کے ایک ہفتے بعد ایک حکم نامے کے ذریعے قانون ، تدریس ، طب اور سرکاری نوکریوں کے دروازے یہودیوں سمیت اقلیتوں پر بند ہو گئے۔دس مئی انیس سو تینتیس کی شب پورے جرمنی میں ان کتابوں کو لائبریریوں اور گھروں سے نکال کر جلایا گیا جن کے مصنفین یہودی تھے۔

 اگلے دو برس میں لگ بھگ اڑتیس ہزار یہودیوں نے جرمنی چھوڑ کر ہمسایہ ممالک ( فرانس ، بلجئیم ، نیدرلینڈز ، ڈنمارک ، چیکوسلوواکیہ اور سوئٹزرلینڈ ) میں سکونت اختیار کی۔مگر ان میں سے اکثر اس وقت پکڑ کے کنسنٹریشن کیمپوں میں بھیج دیے گئے جب نازیوں نے سوائے سوئٹزرزلینڈ کے دیگر ممالک پر قبضہ کر لیا۔

پندرہ ستمبر انیس سو پینتیس کو جرمن پارلیمنٹ کے نورمبرگ میں ہونے والے اجلاس نے امتیازی قوانین کے پیکیج کی منظوری دی جنھیں تاریخ میں نورمبرگ قوانین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے تحت نازی جرمنی نے نسل پرستی کو قانونی شکل دینے کے لیے آبادی کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔خالص جرمن نسل ، مخلوط النسل شہری اور اجنبی۔یہودیوں ، جپسیوں ، رنگداروں اور سیاہ فاموں کو مکمل شہری کے بجائے رعایا ( سبجیکٹ ) کے درجے میں ڈالا گیا۔یعنی وہ غیر آریائی ہونے کے جرم میں سرکاری سہولتوں اور ووٹ کے حق سے محروم کر دیے گئے ۔

ان اجنبیوں کی آریائی جرمن نسل سے شادی بیاہ یا میل ملاپ جرم قرار پایا۔یہودیوں پر پابندی لگائی گئی کہ وہ اپنے نام میں کسی ایسے لاحقے کا اضافہ کریں جس سے وہ پہچانے جائیں ۔سرکار نے ناموں کی ایک فہرست بھی جاری کی جس میں سے جرمن یہودی اپنے لیے کوئی بھی نام چن سکتے تھے۔ ان کی شناختی و سفری دستاویزات پر لفظ جے (یوڈن یعنی جیو ) کا ٹھپہ لگانا لازمی قرار پایا۔

پینتالیس برس سے کم عمر کی کوئی بھی جرمن خاتون کسی یہودی گھر، دوکان یا کمپنی میں قانوناً ملازمت نہیں کر سکتی تھی۔

نورمبرگ قوانین سے ہزاروں یہودی کاروبار سماجی مقاطع کے سبب بند ہو گئے۔اگر کوئی یہودی خاندان ملک چھوڑنا چاہتا تو اسے اجازت تھی بشرطیکہ وہ اپنی ذاتی و کاروباری املاک کی مالیت کا نوے فیصد بطور امیگریشن ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کروا دے۔گویا تمام املاک آپ ایک سوٹ کیس میں بھر کے بخوشی ملک چھوڑ سکتے تھے۔جو کاروباری لوگ ہجرت سے قبل اپنا پیسہ بیرونِ ملک بھیجتے ہوئے پکڑے جاتے انھیں معاشی تخریب کاری کے جرم میں سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔

البتہ فلسطین جانے والے یہودیوں کو محدود تعداد میں مال و اسباب ساتھ لے جانے کی اجازت تھی۔یہ رعائیت ’’ ہوارا ایگریمنٹ ‘‘ ( تبادلہ سمجھوتہ ) کا نتیجہ تھی جو پچیس اگست انیس سو تینتیس کو نازی جرمنی کی وزارتِ اقتصادیات ، جرمن صیہونی فیڈریشن اور جیوش ایجنسی کے اینگلو فلسطین بینک کے درمیان ہوا۔

اس سہہ فریقی معاہدے کے سبب انیس سو تینتیس تا اگست انیس سو انتالیس لگ بھگ ساٹھ ہزار جرمن یہودی فلسطین منتقل ہونے میں کامیاب ہوئے۔فلسطین کی برطانوی انتظامیہ نے پیسے والے جرمن یہودیوں کی آمد کا خیرمقدم کیا۔انھیں پانچ ہزار ڈالر کے عوض فوری سکونت سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا۔( جیسے آج کل امریکا اور امارات سمیت متعدد ممالک مخصوص مقدار میں پیسہ لانے پر گولڈ کارڈ جاری کر کے شہریت دیتے ہیں )۔

اس تبادلے سے فلسطین کی آبادکار معیشت میں نہ صرف جرمن یہودیوں کا پیسہ آیا بلکہ ہنرمند افرادی قوت میں بھی اضافہ ہوا ۔جب کہ جرمن تو ویسے بھی جتنے یہودیوں سے ممکن ہو جان چھڑانا چاہ رہے تھے۔

انیس سو تینتیس تا اگست انیس سو انتالیس لگ بھگ ڈھائی لاکھ جرمن یہودیوں نے امریکا ہجرت کی۔جیسے ہی یکم ستمبر کو دوسری عالمگیر جنگ شروع ہوئی تو یہ کھڑکی بھی بند ہو گئی۔

جرمنی کی دیکھا دیکھی اس کے اتحادیوں نے بھی امتیازی قانون سازی کی۔انیس سو اڑتیس میں مسولینی کے فاشسٹ اٹلی نے اطالوی یہودیوں کو شہریت سے محروم کر کے سبجیکٹ ( رعایا ) قرار دے دیا اور خالص اطالویوں سے ان کے رشتے ناتوں پر پابندی لگا دی۔انیس سو چالیس میں رومانیہ ، انیس سو اکتالیس میں چیکو سلوواکیہ ، بلغاریہ اور کروشیا کی فاشسٹ حکومتوں نے بھی اسی طرح کے امتیازی قوانین نافذ کر دیے۔

ان تمام اقدامات و واقعات کی مکمل تفصیلات ہر اس حکومت کو مسلسل مل رہی تھیں جو نازیوں کے عزائم کے آگے بند باندھنا چاہتے تھے اور جرمنی اور اس کے ہم خیال ممالک میں آباد اقلیتوں سے ہونے والی زیادتیوں پر مختلف بین الاقوامی فورمز پر آب دیدہ ہونے کی اداکاری بھی کر رہے تھے۔

ایسے تمام ممالک امریکی صدر روزویلٹ کے زور دینے پر چھ تا پندرہ جولائی انیس سو اڑتیس فرانس کے صحت افزا مقام ایویان میں جمع ہوئے تاکہ نازی پالیسیوں کے نتیجے میں یورپ میں پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے بحران کا کوئی انسانی حل نکالا جا سکے۔بتیس ممالک سر جوڑ کے بیٹھے۔ ایویان کانفرنس کا کیا نتیجہ نکلا اور پھر نازیوں کے رویے میں کیا بدلاؤ آیا۔ اگلے مضمون میں دیکھیں گے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انیس سو تینتیس اگست انیس سو جرمن یہودی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان