واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بیجنگ نے 34 فیصد جوابی ٹیرف واپس نہ لیا تو امریکا کل سے اس پر مزید 50 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کرے گا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ چین نے پہلے ہی ریکارڈ ٹیرف، غیر مالیاتی ٹیرف، غیر قانونی سبسڈیز اور کرنسی میں چھیڑ چھاڑ جیسے حربے اپنا رکھے ہیں اور اب مزید 34 فیصد جوابی ٹیرف عائد کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے پاکستان سمیت 47 ممالک کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہوں کہ جو بھی ملک امریکا کے خلاف اضافی ٹیرف عائد کرے گا اسے فوری طور پر زیادہ اور سخت امریکی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چین کے ساتھ مذاکرات، جن کے لیے انہوں نے خود رابطہ کیا تھا، ختم کر دیے جائیں گے جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: دُنیا کے غیر آباد علاقے بھی صدر ٹرمپ کے ٹیکس سے بچ نہ سکے

ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر اسٹاک مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ پیدا نہیں کیا۔ امریکا کی گزشتہ نااہل قیادت کو دنیا نے بری طرح استعمال کیا، ٹیرف دوا کے طور پر کام کر کر رہا ہے ، کسی مرض کودرست کرنے کیلئے دوا لینا پڑتی ہے، ٹیرف سے اربوں ڈالر امریکا لارہے ہیں۔

میں نہیں چاہتا کہ کچھ بھی نیچے جائے لیکن، بعض اوقات، آپ کو کچھ ٹھیک کرنے کے لئے دوا لینا پڑتی ہے ٹیرف کے حوالے سے یورپی اور ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے۔

مارکیٹوں کو نقصانات سے بچنے کے لئے خود اقدامات کرنا ہوں گے اور وہ چین کے ساتھ اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک کہ امریکی تجارتی خسارے کو دور نہیں کیا جاتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ

تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران