توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کیس: فواد، مسرت، جمشید چیمہ و دیگر کی ضمانتوں میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) 9 مئی کو جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ سمیت توڑ پھوڑ کے 9 مقدمات میں فواد چودھری، مسرت جمشید چیمہ، جمشید اقبال چیمہ، علی وڑائچ سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی گئی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ سمیت توڑ پھوڑ کے 9 مقدمات پر سماعت کی، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمان نے عدالت میں پیش ہو کر حاضری مکمل کروائی جس کے بعد عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں 13 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی کا تنازع کیس سماعت کےلیے مقرر
واضح رہے کہ ملزمان نے 9 مئی کو جناح ہاؤس حملہ، کلمہ چوک میں کنٹینر جلانے، مسلم لیگ ن کا دفتر جلانے سمیت 9 مقدمات میں عبوری ضمانتیں دائر کر رکھی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :