زندہ انسانوں کو جلانا معمولی نہیں، اسرائیل صرف غزہ تباہ نہیں کررہا بلکہ انسانیت چھین رہا ہے: سوارا بھاسکر
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم و ناانصافی اور حال ہی میں النصر اسپتال پر کیے گئے حملے میں صحافی سمیت دیگر افراد کے زندہ جل جانے پر خاموشی توڑ دی۔
انسٹاگرام پر بیٹی کے ہمراہ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے سوارا بھاسکر نے ایک جذباتی پوسٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
A post shared by Swara Bhasker (@reallyswara)
سوارا بھاسکر نے لکھا کہ’میں بہت کوشش کرتی ہوں کہ اچھے کپڑے پہن کر تیار ہوں، میک اپ کر کے سیلفی پوسٹ کروں، اپنی بیٹی کی کھیلتے ہوئے خوبصورت تصاویرلے کرریلز بناتی ہوں، اپنی اور اہل خانہ کی تصاویر پوسٹ کرتی ہوں لیکن یہ سب بھی مجھے (غزہ کے بارے میں سوچنے سے ) نہیں روک سکتا‘۔
اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں غزہ میں ہونے والی ہولناکیوں پر افسوس کرتے ہوئے لکھا کہ’ میں ہر دن ایسے والدین کو دیکھتی ہوں جو اپنے مردہ بچے کو گود میں اٹھائے رو رہے ہوتے ہیں، ایسا بچہ جس کا سر تن سے جدا ہو چکا اور جسم کے ٹکڑے اسرائیل کی جانب سے کی گئی بمباری نے فضا میں اڑا دیے جاتے ہیں، لوگ اپنے عزیزوں کے اعضا پلاسٹک بیگز میں اٹھائے ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص کو زندہ جلادیا گیا‘۔
سوارابھاسکر نے لکھا کہ ’ہم سب ایک نسل کشی دیکھ رہے ہیں، یہ بدترین جنگی جرائم اور غیر انسانی مظالم کو ہمارے فونز پر لائیو اسٹریم دکھایا جاتا ہے اور ہم کچھ بھی نہیں کرپارہے،ہم سب آہستہ آہستہ مر رہے ہیں، اسرائیل صرف غزہ کو تباہ نہیں کررہا اور فلسطین میں قتل وغارت گری نہیں کررہا بلکہ وہ ہماری انسانیت چھین رہا ہے‘ ۔
اداکارہ نے شدید غم وغصے کا اظہا ر کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ’یہ معمولی نہیں ہے، انسانوں یاکسی بھی جاندار کو زندہ جلانا معمول کی بات نہیں ہے، بچوں کا قتل اور اسپتالوں، اسکولوں اور شہریوں پر بمباری بھی معمول کی بات نہیں، وہ جنگیں جو مغربی دنیا نے پیدا کیں جو ہتھیار انھوں نے بنائے اور نسل کشی، یہ سب معمولی نہیں ہے‘۔
سوارا بھاسکر نے لوگوں کو اس ظلم ونانصافی کے خلاف آواز اٹھانے پر زور دیتے ہوئے لکھا کہ ’ دنیا کے سب سے بھیانک جنگی جرائم دیکھ کر اپنی آنکھیں بند نہ کریں اور نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائیں‘ ۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوارا بھاسکر نے لکھا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔