نواز شریف سے سربراہ نیشنل پارٹی عبدالمالک بلوچ کی جاتی امرا میں ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
نواز شریف سے سربراہ نیشنل پارٹی عبدالمالک بلوچ کی جاتی امرا میں ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 9 April, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز) مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے سابق وزیر اعلی بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنی جماعت کے وفد کے ہمراہ جاتی امرا رائیونڈ میں ملاقات کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق جاتی امرا میں ہونے والی اس اہم ملاقات کے موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزرا اویس لغاری، احسن اقبال، پرویز رشید، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال اور سردار اویس لغاری بھی ملاقات میں شامل تھے۔میاں نواز شریف کی جانب سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ دونوں رہنماوں نے ملاقات میں بلوچستان کے حالیہ واقعات، دہشت گردی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے میاں نواز شریف کو دورہ بلوچستان کی دعوت بھی دی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نواز شریف کو مہنگائی کی رفتار اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنے پر مبارکباد دی۔
ملاقات کے بعد سعد رفیق کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ میں نواز شریف اور لیگی رہنماوں کا مشکور ہوں کہ ہمارے خیرسگالی وفد کو بھرپور احترام دیا۔ بلوچستان دو دہائیوں سے خون میں رنگا ہوا ہے اور اس دوران نواز شریف کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو نواز شریف سے بہت امیدیں وابستہ ہیں اور انہوں نے نواز شریف سے درخواست کی کہ وہ بی این پی مینگل کے دھرنے اور خواتین کی جیلوں میں موجودگی پر اپنا کردار ادا کریں۔عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نواز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ وہ دوبارہ اپنے کردار کو فعال کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس کا حل سیاسی طور پر ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بے گناہ افراد کے قتل کی مذمت کی۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نواز شریف سے درخواست کی کہ وہ سینیئر سیاستدان کے طور پر بلوچستان کے مسائل میں اپنا کردار ادا کریں۔ نواز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ وہ بلوچستان میں امن کے لیے اپنا سیاسی اور جمہوری کردار ادا کریں گے۔سعد رفیق نے کہا کہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلی تھے، تب بلوچستان میں ترقی ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے جمہوریت میں تعطل آیا جس کی وجہ سے صورتحال یہاں تک پہنچی۔ نواز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ذاتی طور پر اس مسئلے میں دلچسپی لے کر اس کا حل نکالیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عبدالمالک بلوچ نواز شریف سے جاتی امرا
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں