پی ایس ایل 10 کی افتتاحی تقریب میں کون کون پرفارم کرنیوالاہے ؟ نام سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ 10 کی افتتاحی تقریب 11 اپریل کو ہوگی، نامور فنکار عابدہ پروین، علی ظفر، ابرار الحق، نتاشہ بیگ اور طلحہ سمیت دیگر اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔
پاکستان سپر لیگ کے دسویں سیزن کا 11 اپریل سے آغاز ہورہا ہے، افتتاحی تقریب روالپنڈی میں منعقد ہوگی، جس میں نامور گلوکار اپنی آواز کا جادو جگائیں گے۔
ذرائع کے مطابق افتتاحی تقریب شام 7 بجے شروع ہوگی، نامور گلوکارہ عابدہ پروین بھی افتتاحی تقریب میں پرفارم کریں گی، جبکہ گلوکار علی ظفر، ابرار الحق، نتاشہ بیگ اور طلحہ انجم بھی آواز کا جادو جگائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ افتتاحی تقریب میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا جائے گا جبکہ ڈرون شو اور لیزر شو کا بھی اہتمام ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: افتتاحی تقریب
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔