امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو ممالک جوابی ٹیرف نہیں لگارہے ان کے لیے وقت کا اعلان کیا ہے، ٹیرف پر ہر کوئی ڈیل کرنا چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مختصر وقت کے لیے ٹیرف کو واپس لیا ہے، لوگ ٹیرف کےبارے میں خوفزدہ ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 90 دن کا وقفہ ان ممالک کے لیے ہے جنہوں نے اضافی ٹیرف عائد نہیں کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ بھی ڈیل ہوسکتی ہے، سب سے منصفانہ ڈیل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، انتظار کرنا ہوگا کہ ٹک ٹاک ڈیل پر چین کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین پر ٹیرف فوری طور پر بڑھا کر 125 فیصد کر رہے ہیں، ماضی میں لوگوں نے ہم سے فائدہ اٹھایا،امریکی مفادات کا تحفظ کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایران کے ساتھ ڈیل کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری پروگرام بند کرنے پر راضی نہ ہوا تو فوجی طاقت کا استعمال کریں گے، فوج کی ضرورت پڑی تو ہمارے پاس موجود ہے، اسرائیل اس میں شامل ہوجائے گا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل