راولپنڈی (نیوز ڈیسک )پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کی افتتاحی تقریب کی میزبانی راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے سپرد کی گئی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پی ایس ایل سیزن 10 کی افتتاحی تقریب 11 اپریل بروز جمعہ کو راولپنڈی میں شام 7 بجے منعقد ہوگی۔ جس میں معروف گلوکار اپنی پرفارمنس کا جادو جگائیں گے جبکہ ایونٹ کا افتتاحی میچ بھی اسی روز شیڈول ہے۔

پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گے، میچ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے 8 بجے ہو گا۔پی ایس ایل سیزن 10 مجموعی طور پر چار مقامات پر کھیلا جائے گا جن میں کراچی کا نیشنل سٹیڈیم، لاہور کا قذافی سٹیڈیم، ملتان کرکٹ سٹیڈیم اور پنڈی کرکٹ سٹیڈیم شامل ہیں۔

پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں معروف صوفی گلوکار عابدہ پروین سمیت دیگر گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔اس کے علاوہ پی ایس ایل اینتھم کے لیے علی ظفر، ابرار الحق، نتاشا بیگ اور طلحہ انجم بھی اپنی آواز کا جادو جگائیں گے جبکہ تقریب کے دوران شائقین کو آتش بازی بھی دیکھنے کو ملے گی۔

پی ایس ایل سیزن 10 میں چھ ٹیموں کے درمیان کل 34 میچز کھیلے جائیں گے جبکہ ایونٹ کا فائنل میچ 18 مئی کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کا جوش اور جنون بڑھنے لگا، پاکستان کے سب سے بڑے اسپورٹس ایونٹ کیلئے شائقین خاصے پر جوش ہیں۔کراچی میں پی ایس ایل کی رونقیں بھرپور انداز میں شروع ہوگئی ہیں، نیشنل اسٹیڈیم کے باہر سیزن 10 کا کاؤنٹ ڈاؤن ٹائمر نصب کر دیا گیا ہے، شائقین کا جوش بڑھانے کے لیے لاہور میں بھی سڑکیں کھلاڑیوں کے پوسٹرز سے سجا دی گئی ہیں۔

لیگز کے آغاز میں صرف 2 روز باقی رہ گئے ہیں اور ٹکٹوں کی فروخت بھی شروع ہوگئی ہے۔چاروں وینیوز پر ٹکٹ کی کم سے کم قیمت 650 روپے رکھی گئی ہے، پنڈی میں افتتاحی میچ کے ٹکٹ کی قیمت 850 روپے سے 1000 روپے تک مقرر کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پنڈی کرکٹ سٹیڈیم پی ایس ایل سیزن 10 افتتاحی تقریب گئی ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم