امریکا میں غیر قانونی جوئے اور منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک پکڑا گیا، پاکستانی نژاد ماسٹر مائنڈ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں جوئے اور منی لانڈرنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی شہر ہوسٹن میں 30 سے زائد جوئے کے اڈوں پر چھاپے مارے گئے جو منی لانڈرنگ میں بھی ملوث تھے۔
ان چھاپوں کے دوران 16 افراد کو حراست میں لی گیا تھا جن پر جوئے اور منی لانڈرنگ کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کردی گئی۔
اس کارروائی کے دوران کروڑوں ڈالر نقدی، بینک اکاؤنٹس، قیمتی گاڑیاں، گھڑیاں اور اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا۔
چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کی غیر قانونی دولت، پراپرٹیز اور لگژری آئٹمز برآمد ہوئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار، پاکستانی نژاد 61 سالہ نزار علی تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منی لانڈرنگ
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔