گرمی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ نئے ایئر کنڈیشنر خریدنے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ ایئر کنڈیشنر خریدنے سے پہلے کئی چیزوں پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سے ایک اہم چیز “ٹنیج” ہے۔ آپ نے کا لفظ کئی بار سنا ہوگا اور بہت سے لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ یہ اے سی کے وزن کو ظاہر کرتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ یہ اصطلاح کچھ اور ہی معنی رکھتی ہے جو خریداری کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جب آپ ایئر کنڈیشنر خریدنے جاتے ہیں تو اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ “آپ کو کتنے ٹن کا اے سی چاہیے؟” مثلاً ایک ٹن، 1.

5 ٹن یا دو ٹن۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ایئر کنڈیشنر کے تناظر میں “ٹن” سے مراد کولنگ کی صلاحیت ہے۔ ایک 1 ٹن کا ایئر کنڈیشنر فی گھنٹہ 12 ہزار بی ٹی یو (برٹش تھرمل یونٹس) کی کولنگ فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح 1.5 ٹن کا اے سی 18 ہزار بی ٹی یو اور 2 ٹن کا اے سی 24 ہزار بی ٹی یو فی گھنٹہ کی کولنگ دیتا ہے۔

سادہ الفاظ میں ٹنیج یہ بتاتی ہے کہ ایئر کنڈیشنر کتنی تیزی اور مؤثر طریقے سے کسی جگہ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔ اگر آپ کا کمرہ بڑا ہے تو زیادہ ٹنیج والا اے سی بہتر اور تیز کولنگ کے لیے موزوں ہوتا ہے۔ لیکن اگر کمرہ چھوٹا ہے تو ایک ٹن کا اے سی عموماً کافی ہوتا ہے۔ صحیح ٹنیج کا انتخاب نہ صرف بجلی کی کھپت کو کم کرتا ہے بلکہ آپ کے بجلی کے بل کو بھی کم رکھتا ہے۔ زیادہ سٹار ریٹنگ والے اے سی جیسے کہ فائیو سٹار ماڈلز، ایک ہی ٹنیج میں زیادہ توانائی بچاتے ہیں۔

گرم اور مرطوب علاقوں میں عام طور پر زیادہ ٹنیج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کولنگ مؤثر ہو، جبکہ کم درجہ حرارت یا محدود استعمال والے علاقوں میں کم ٹنیج والا یونٹ بھی کام چلا سکتا ہے۔ لہٰذا ایئر کنڈیشنر میں “ٹن” کا مطلب اس کا وزن نہیں بلکہ اس کی کولنگ کی صلاحیت ہے۔ کمرے کے سائز، موسم اور توانائی کی بچت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ٹنیج کا انتخاب بہتر کولنگ اور مالی بچت کو یقینی بناتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایئر کنڈیشنر ٹن کا اے سی ہوتا ہے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی