کیا آپ جانتے ہیں کہ 1 ٹن یا 2 ٹن کا اے سی کیا ہوتا ہے؟ جانیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
گرمی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ نئے ایئر کنڈیشنر خریدنے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ ایئر کنڈیشنر خریدنے سے پہلے کئی چیزوں پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سے ایک اہم چیز “ٹنیج” ہے۔ آپ نے کا لفظ کئی بار سنا ہوگا اور بہت سے لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ یہ اے سی کے وزن کو ظاہر کرتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ یہ اصطلاح کچھ اور ہی معنی رکھتی ہے جو خریداری کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جب آپ ایئر کنڈیشنر خریدنے جاتے ہیں تو اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ “آپ کو کتنے ٹن کا اے سی چاہیے؟” مثلاً ایک ٹن، 1.
سادہ الفاظ میں ٹنیج یہ بتاتی ہے کہ ایئر کنڈیشنر کتنی تیزی اور مؤثر طریقے سے کسی جگہ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔ اگر آپ کا کمرہ بڑا ہے تو زیادہ ٹنیج والا اے سی بہتر اور تیز کولنگ کے لیے موزوں ہوتا ہے۔ لیکن اگر کمرہ چھوٹا ہے تو ایک ٹن کا اے سی عموماً کافی ہوتا ہے۔ صحیح ٹنیج کا انتخاب نہ صرف بجلی کی کھپت کو کم کرتا ہے بلکہ آپ کے بجلی کے بل کو بھی کم رکھتا ہے۔ زیادہ سٹار ریٹنگ والے اے سی جیسے کہ فائیو سٹار ماڈلز، ایک ہی ٹنیج میں زیادہ توانائی بچاتے ہیں۔
گرم اور مرطوب علاقوں میں عام طور پر زیادہ ٹنیج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کولنگ مؤثر ہو، جبکہ کم درجہ حرارت یا محدود استعمال والے علاقوں میں کم ٹنیج والا یونٹ بھی کام چلا سکتا ہے۔ لہٰذا ایئر کنڈیشنر میں “ٹن” کا مطلب اس کا وزن نہیں بلکہ اس کی کولنگ کی صلاحیت ہے۔ کمرے کے سائز، موسم اور توانائی کی بچت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ٹنیج کا انتخاب بہتر کولنگ اور مالی بچت کو یقینی بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایئر کنڈیشنر ٹن کا اے سی ہوتا ہے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔