ٹرمپ کاٹیرف پریوٹرن،عالمی معیشت پر مثبت اثرات
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
اسلام آباد(طارق محمودسمیر) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیپاکستان سمیت بیشترممالک پر ٹیرف کانفاذ تین ماہ کے لئے روک دیاہے ،تاہم چین کے ساتھ امریکہ کی تجارتی جنگ بدستور جاری ہے،چین کے جوابی ٹیرف نفاذکرنے کے بعدٹرمپ انتظامیہ نے
چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں مزید 21 فیصد اضافہ کرکے 125 فیصد کردیاہے،صدرٹرمپ کا کہنا ہے کہ 75 سے زائد ممالک نے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے، یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے امریکا کے خلاف جوابی اقدام نہیں اٹھایا، ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد خود امریک کی اپنی اسٹاک مارکیٹ میں یکدم تیزی آگئی ہے ،اس سے پہلے صدر ٹرمپ کی طرف سے تین اپریل کو عالمی تجارتی نظام پر ٹیرف بم گرا کر تقریباً ایک سو ممالک کی معیشت کو راتوں رات تہ و بالا کر دیاگیاتھا، متعدممالک کی عالمی سٹاک مارکیٹس کریش کر گئی تھیں جس سے سرمایہ کاروں کے کھربوں ڈالر ڈوب گئے،امریکی تجارتی میگزین فوربز کے مطابق ٹرمپ کے اس اقدام کی وجہ سے 500 امریکی کمپنیوں نے پانچ ٹریلین ڈالرز کا نقصان اٹھایا،تاہم ٹیرف کانفاذ موخر ہونے کے بعد اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری آناشروع ہوگئی ہے ، جن ممالک نے جوابی ٹیرف کے معاملے پرامریکہ کے ساتھ مذاکرات کاراستہ اختیارکیا ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے ،پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا وفدواشنگٹن بھیجاجارہاہے ،امید کی جانی چاہئے کہ کہ ممکن مذاکرات کے نتیجے میںجوابی ٹیرف کے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرلیاجائے گا،بلاشبہ صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جوابی ٹیرف عائد کرنے کی پالیسی پاکستان جیسے ترقی پذیرملکوں کے لئے زیادہ تشویش کاباعث ہے جن کی معیشتیں مختلف عوامل کی وجہ سے پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا جس میں مزیدشدت آرہی ہے اورابھی تک کوئی فریق جھکنے کوتیارنظرنہیں آتا ،عالمی معیشت میں چین اور امریکہ دونوں کا اہم کردارہے اور یقیناً آنے والے دنوں میں اگر دونوں ملکوں کے درمیان پھرسے تجارتی جنگ میں شدت آتی ہے تو اس کااثرعالمی معیشت پر بھی پڑے گا اس حوالے سے ممکنہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔ علاوہ ازیں مائنزاینڈمنرلزفورم کے کامیاب انعقاد کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پرمعدنی شعبے میں سرمایہ کاری ہوگی جس سے نہ صرف پاکستان کے قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گابلکہ ہزاروں لوگوں کے لئے روزگارکے مواقع بھی پیداہوں گے تاہم خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ نے اس فورم میں دعوت کے باوجود شرکت نہیں کی تھی مگر میڈیاپورٹس کے مطابق صوبائی اسمبلی میں منرلز ایکٹ منظوری سے قبل ہی اسے متنازع بنانے کاسلسلہ شروع کردیاگیاہے اور وزیراعلیٰ گنڈاپوراس حوالے سے واضح کرچکے ہیں کہ اس بل کے پاس ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت کاکوئی اختیارنہ تو وفاق کو مل جائے گا اور نہ ہی کسی ادارے کو ،پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائی کو قومی منصوبوں کومتنازع بنانے کاباعث نہیں بنناچاہئے،پی ٹی آئی کے ایک رہنماعاطف خان نے صوبائی اسمبلی کے بعض ارکان سے رابطے کرکے ان سے کہاہے کہ وہ اس بل کی حمایت میں ووٹ نہ دیں اور وزیراعلیٰ سے بھی ان کے واٹس ایپ گروپ میں بحث ومباحثہ ہواہے،وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ اس سارے معاملے پر پارلیمانی پارٹی کااجلاس بلاکرارکان کو اعتماد میں لیں جب کہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن جے یو آئی ،پیپلزپارٹی ،اے این پی کو بھی اعتماد میں لے کر جتناجلدممکن ہوسکے اس بل کو پاس کرایاجائے کیونکہ بل پاس ہونے کے بعدکے پی صوبے میں اربوں ڈالرکی غیرملکی سرمایہ کاری کے امکانات ہیں اور اگرکسی معاملے کومتنازع بنادیاجائے تو عالمی سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنے سے گریزکرتے ہیں لہذااس معاملے میں سیاست کرنے کی بجائے قومی اورصوبے کے مفادکو اولین ترجیح دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932