فعال خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی سے نکل آیا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
فعال خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی سے نکل آیا، عطا تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایک سال میں پاکستان نے عالمی سطح پر تنہائی سے نکل کر فعال خارجہ پالیسی کی جانب قدم بڑھایا، وزیراعظم کا بیلاروس کا دورہ انتہائی اہم ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ بیلاروس کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ بیلاروس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے چند ماہ قبل دورہ پاکستان کے دوران متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ بیلاروس کے دوران زرعی مشینری، دفاع، دفاعی پیداوار اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی بات ہوئی،بیلاروس کے صدر کا مسلم لیگ(ن)کے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ ذاتی اور دیرینہ تعلق ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کو بطور مہمان خصوصی غیر رسمی عشایئے پر مدعو کیا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ بیلاروس انتہائی اہم ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیشرفت ثابت ہوگا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان نے عالمی سطح پر تنہائی سے نکل کر فعال خارجہ پالیسی کی جانب قدم بڑھایا، متعدد عالمی سربراہان نے پاکستان کے دورے کئے، پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)سربراہ اجلاس کی میزبانی کی،مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کے معاہدے عملی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان منرلز انوسٹمنٹ فورم میں دنیا بھر سے 300 سے زائد ماہرین اور مندوبین نے شرکت کی، بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، بزنس فورمز کے انعقاد سے ملکی معیشت کو استحکام مل رہا ہے، پاکستان عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عالمی سطح پر تنہائی سے نکل فعال خارجہ پالیسی کی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔