پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں سیزن کا کل (11 اپریل) سے آغاز ہورہا ہے، جس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، بات کی جائے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولروں کی تو بلے بازوں کی فہرست میں بابر اعظم کا نام پہلے نمبر پر آتا ہے جبکہ بولروں کی فہرست میں وہاب ریاض پہلی پوزیشن پر قابض ہیں۔

پی ایس ایل 10 میں اب تک سب سے زیادہ رنز پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم نے بنائے ہیں جبکہ سب سے زیادہ وکٹیں پشاور زلمی کے ہی فاسٹ بولر وہاب ریاض نے حاصل کی ہیں۔

بابراعظم نے پی ایس ایل کے 90 میچوں میں 3 ہزار 504 رنز اسکور کیے۔ سب سے بڑی انفرادی اننگز کوئٹہ کے جیسن رائے نے کھیلی، انہوں نے پشاور زلمی کے خلاف 63 گیندوں پر 145 رنز بنائے۔لاہور قلندرز کے فخر زمان گیند کو باؤنڈری کے باہر پہنچانے میں سب سے آگے ہیں، انہوں 84 میچوں میں 104 چھکے لگائے۔

وکٹیں اڑانے میں پشاور زلمی کے وہاب ریاض سرفہرست ہیں، 8 سیزن میں 88 میچز کھیلے اور 113 وکٹیں اڑائیں۔کراچی کنگز کے روی بوپارا کے بہترین بولنگ فگرز ہیں، انہوں نے لاہور قلندرز کے خلاف 16 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پشاور زلمی کے سب سے زیادہ پی ایس ایل

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ