پی ٹی آئی اگراسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے تو ٹی وی پرآکر کہے کہ سویلین بالادستی بیانیہ جھوٹا تھا
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 12 اپریل 2025ء ) وزیرمملکت برائے قومی ثقافت و ورثہ حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اگراسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے تو ٹی وی پرآکر کہے کہ سویلین بالادستی بیانیہ جھوٹا تھا،یہ عوام کو بتائیں کہ جھوٹا بیانیہ مقبولیت کیلئے تھا جبکہ حکومت میں گوڈے پکڑ کر آنا ہے، اسٹیبلشمنٹ اگربات کرنا چاہتی ہے تو بالکل بات کرلیں، ان کی منافقت والی دوغلی پالیسی مناسب نہیں۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام آسکتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ سیاستدانوں کو گلے لگا کر ہی سیاسی مسائل کا حل نکلتا ہے،پچھلے دس سالوں میں کسی اینکر نے آج تک اس پر بات نہیں کی کہ سربراہان مملکت یا سابق وزرائے اعظم پاکستان میں علاج کیوں نہیں کراتے؟پاکستان میں لاہور ایسا شہر ہے جہاں ایسے ہسپتال اور ڈاکٹر موجود ہیں جن سے رائل فیملی علاج کراتی رہی ہے، ڈاکٹر حسنات، ڈاکٹر شہریار، عامر عزیزسمیت ایسے بڑے نام موجود ہیں، میرا خود میڈیکل فیملی سے تعلق ہے، میرے والد میڈیکل فزیشن اور شعبہ جات کے ہیڈ بھی رہے، جب بھی کوئی سربراہ مملکت کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کرانے آتا ہے تو ڈاکٹر کوئی فیصلہ ہی نہیں کرپاتا ، کیونکہ ڈاکٹر جب علاج کرتا ہے تو اس پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیئے، لیکن سربراہ مملکت کے عہدے کا ڈاکٹر پر پریشر اتنا ہوتا ہے کہ وہ علاج نہیں کرپاتا، کوشش ہوتی ہے کہ ایسی شخصیت کو کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس بھیجا جائے جس پر کوئی پریشر نہ ہو۔(جاری ہے)
نوازشریف کو جب باہر بھیجا گیا تو بہترین ڈاکٹرز کا بورڈ تھا جس نے باہر بھیجنے کا فیصلہ کیا ، ان کو لگتا تھا کہ نوازشریف سابق وزیراعظم اور ایک پارٹی کے سربراہ ہیں، نوازشریف کو دل کا ایک پیچیدہ مرض لاحق ہے اور اس کا علاج دنیا کے دو تین ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ میں بتا دوں کہ نوازشریف کا پلیٹ لیٹس کا کوئی ایشو نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ کیا ہمیں پی ٹی آئی سے بات کرنی چاہیئے، تو باکل ہم بات کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ کوئی حکومت اپوزیشن کے بغیر نہیں چل سکتی ، بات چیت کیلئے جب حکومت کو بڑا دل کرنا چاہیئے تو پھر اپوزیشن کو بھی بڑا دل کرنا چاہیئے، پی ٹی آئی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی ٹاپ لیڈرشپ پر تنقید کرتی ہے تو پھر ہم کیسے بات کریں؟پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے تو ٹی وی پر آن ایئر کہے کہ ہمارا سویلین بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی مضبوطی کا بیانیہ جھوٹا تھا، یہ جھوٹا بیانیہ عوام میں مقبولیت کیلئے اپنایا تھا ویسے ہم نے اسٹیبلشمنٹ کے گوڈے پکڑ کر حکومت میں آنا ہے، اسٹیبلشمنٹ اگر پی ٹی آئی سے بات کرنا چاہتی ہے تو یہ بالکل بات کرلیں، ایک طرف وزیراعظم کٹھ پتلی کا بیانیہ بناتے ہیں اور خود اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو یہ منافقت والی دوغلی پالیسی مناسب نہیں۔وزیراعظم اور بلاول بھٹو جب مل بیٹھیں گے تو پیپلزپارٹی کے تحفظات دور ہوجائیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا پی ٹی آئی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔