امت مسلمہ حکمرانوں کی پرواہ کیے بغیر اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑی ہو، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے حکمران مفادات کے غلام بن چکے ہیں، امت مسلمہ کو حکمرانوں کی پراہ کیے بغیر اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔
کراچی میں غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہو کر سامنے آنا پڑےگا، امت مسلمہ کو سیلاب کی طرح امڈ کر آنا ہوگا، اور یہ سیلاب اسرائیل کو بہا کر لے جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں اسرائیل حماس سے شکست کھا چکا، حافظ نعیم کا 22 اپریل کو اہل غزہ سے یکجہتی کے لیے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ جبری طور پر کسی بھی ملک میں کسی اور کو آباد نہیں کیا جا سکتا، یہ بیانیہ یورپ کی جانب سے بنایا گیا ہے کہ فلسطینیوں نے اپنی زمینیں خود بیچی ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ آج کے اجتماع سے یہ پیغام گیا ہے کہ مظلوم فلسطینی تنہا نہیں، ہم خون کے آخری قطرے تک فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اسرائیل کی کوئی قانونی، سیاسی اور اخلاقی حیثیت نہیں، اسرائیل کی جانب سے مقدس سرزمین پر قبضہ کیا گیا ہے۔
انہں نے کہاکہ اسرائیل ملک نہیں ایک خنجر ہے جو عرب ملک کی کمر میں گھونپا گیا، کراچی کے عوام حکمرانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں کراچی: غزہ کے ڈاکٹروں سے اظہار یکجہتی کے لیے ’فلسطین وائٹ کوٹ مارچ‘ کا انعقاد
انہوں نے مزید کہاکہ 77 سال سے عالمی طاقتیں اسرائیل کی تائید کررہی ہیں، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، فلسطین میں بچوں اور خواتین کی شہادت بھی حکمرانوں کو نہیں جگا سکی، لیکن جے یو آئی کے کارکنان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل جمعیت علما اسلام جے یو آئی غزہ مارچ قابض ملک کراچی مولانا فضل الرحمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل جمعیت علما اسلام جے یو ا ئی قابض ملک کراچی مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ا جے یو ا ئی
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل