اسپیکر ایاز صادق سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
سٹی 42 : اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے امریکی کانگریس کے اراکین کے وفد کی ملاقات ہوئی۔
سردار ایاز صادق نے امریکی کانگریس کے اراکین کے وفد کی اسپیکر ہاؤس اسلام آباد آمد پر خیر مقدم کیا۔ امریکی وفد میں کانگریس کے اراکین جیک برگمین، ٹام سوزی، اور جوناتھن جیکسن شامل تھے۔
ملاقات میں پارلیمانی روابط کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
موسم کے حوالے سے خبر آگئی
اسپیکر قومی اسمبلی نے کانگریس میں پاکستان کی حمایت پر کانگریس کے اراکین کا شکریہ ادا کیا، کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ خوشگورا تعلقات کے فروغ کے لیے پر عزم ہے، پارلیمانی رابطوں کا فروغ جمہوریت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الپارلیمانی روابط دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔
امریکی وفد نے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا، وفد نے مستقبل میں پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔
جماعت اسلامی نے حماس کے ساتھ یکجہتی کے لئے ملک گیر ہڑتال کروانے کا اعلان کر دیا
ملاقات کے بعد امریکی کانگریس کے اراکین کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ عشائیہ میں امریکہ-پاکستان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے اراکین بھی شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کانگریس کے اراکین امریکی کانگریس کے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔