Daily Ausaf:
2026-06-02@22:49:10 GMT

جہاد کا فتوی، نیتن یاہو اینڈ کمپنی میں کہرام

اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT

پرویزی بوائے فواد چوہدری کی ٹوئٹ ’’آج جن مولوی صاحبان نے اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے وہ انتہائی صائب اور وقت کی ضرورت ہے، اس اعلیٰ و ارفع مقصد کے لئے میں نے قصد کیا ہے کہ سو بڑے مولوی صاحبان اور پاکستان کے بڑے علماء کو غزہ پہنچانے کے اخرجات میں اپنی جیب سے ادا کروں گا‘‘ اس خاکسار نے پڑھا تو سینیٹر مشاہدہ اللہ مرحوم بہت یاد آے،جنہوں نے سینٹ میں دوران تقریر موصوف سے مخاطب ہو کر کہا تھا۔ ’’ڈبو میں تو تجھے باندھ کر آیا تھا تو پھر آ گیا‘‘ پرویز کی غلامی،بلاول کی چاکری سے لے کر عمرانی گوریلا بننے تک کی تاریخ اور عمرانی گوریلے کی شاندار ’’دوڑ‘‘ تو پوری قوم نے دیکھ رکھی ہے،لیکن اصل ذمہ داری باشعور ووٹرز کی ہے کہ وہ آج ہی سے اسرائیلی دستر خوان کے راتب خوروں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیں، صرف پیپسی،کوکا کولا،کے ایف سی،مکڈولڈ ہی نہیں ،بلکہ امریکی اسرائیلی دستر خوان کے راتب خوروں کا بائیکاٹ بھی لازم ہے،جن اکابر علماء نے اپنی شرعی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مسلمان حکومتوں پر فلسطین کے مسلمانوں اور اقصیٰ کی آزادی کے لئے جہاد کی فرضیت کا فتویٰ دیا ہے،ان پر طنزو مزاح اور تمسخر کے تیر چلانے والا کو ئی چودھری ہوغامدی ہو،سیکولر ہو یالنڈے کا لبرل،ان سب کو امریکہ اور اسرائیل کی غلامی مبارک ،پاکستانی قوم اور علمائے حق کو غزہ کے مسلمانوں اور اقصیٰ کی محبت مبارک، اسلام آباد میں منعقدہ قومی فلسطین کانفرنس میں مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن ،مفتی منیب الرحمن ،مولانا محمد حنیف جالندھری اورمولانا اورنگزیب فاروقی سمیت دیگر علماء نے فلسطین کے حق میں جو مضبوط اور واضح موقف اختیار کیا، اس کی وجہ سے نیتن یاہو، غامدیت،قادیانیت وفوادیت،اینڈ کمپنی کے دلوں پر ہیبت طاری ہے، جی ہاں ’’جہادو قتال‘‘کی عبادت کا اصل حسن ہی یہ ہے کہ اس کا تذکرہ کافرین سے زیادہ منافقین پر بھاری پڑتا ہے،لیکن کوئی نیتن یاہو اور اس کے دسترخوان کے راتب خوروں کو بتائے کہ وہ وقت قریب ہے کہ جب ’’غرقد‘‘کا درخت بھی پکار کر کہے گا کہ اے مجاہد!میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے، اس یہودی کو وہیں پر واصل جہنم کیا جائے گا۔
یہودو نصاریٰ اور ہنود کا غلام جس طبقہ مخصوصہ کو نریندر مودی امن پسند اور امیرالمجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر دہشت گرد نظر آتا تھا،اسی ’’طبقہ مخصوصہ‘‘نے صرف جہاد کا فتویٰ دینے کی وجہ سے مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن جیسے جید علماء کو بھی نشانے پر رکھ لیا،پس!ثابت ہوا کہ یہودو ہنود اور ان کے راتب خوروں کا اصل نشانہ ’’جہاد‘‘ہے اور جہاد ہی رہے گا،لیکن شتونگڑا پارٹی یاد رکھے جہاد قیامت تک جاری رہے گا اوریہ فرمان میرے آقا و مولیٰﷺ کا ہے،اسرائیلیت، قادیانیت، غامدیت ،فوادیئت ،مائی فٹ،فلسطین قومی کانفرنس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور سیاسی و مذہبی قائدین نے شرکت کی اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔اس کانفرنس میں تمام قائدین نے اسرائیل کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا اور امت مسلمہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی عملی مدد کے لیے متحد ہو، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ تقاضا تو یہ تھا کہ یہاں جمع ہونے کے بجائے ہمیں غزہ میں ہونا چاہیے تھا لیکن ہم عملی قدم کے بجائے آج بھی کانفرنس پر اکتفا کر رہے ہیں۔پوری امت مسلمہ آج صرف تماشائی بنی ہوئی ہے جو صرف مذمتی بیانات جاری کر رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر تو مذمتی بیانات تک نہیں دے سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاد کے لیے آپ کے پاس بہت سارے راستے ہیں۔ جہاد کرنا آپ سب کا فریضہ ہے ۔
آج کا اجتماع حکمرانوں کو پیغام دے رہا ہے کہ اپنی ذمہ داری ادا کریں ۔ کب تک ہم ایسی زندگی گزاریں گے؟ اسرائیل اور اس کے حامیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں، مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ حماس کے مجاہدین ہوں یا قائدین، اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ہم نے تمام اسلامی حکومتوں سے کھل کر فتویٰ کے ذریعے کہا ہے کہ آپ پر جہاد فرض ہوچکا ہے۔ زبانی جمع خرچ سے مسلمان حکمران اپنے فرض سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔ مسلم ممالک کی فوجیں کس کام کی ہیں اگر وہ جہاد نہیں کرتیں؟انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل سے نہ کوئی تعلق ہے نہ ہوگا ۔ پاکستان بننے سے پہلے قائداعظمؒ نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا تھا ۔
پاکستان کی ریاست آج بھی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے موقف پر قائم ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل چاہے جتنے مسلمانوں کو قتل کردے، ہم اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے جبکہ اقوام متحدہ اسرائیل اور امریکا کے ہاتھ کھلونا بن چکی ہے، مفتی اعظم پاکستان مولانا منیب الرحمن نے اجلاس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا،شرعاً الاقرب فی الاقرب کے اصول کے تحت تمام مسلمانوں پر جہاد واجب ہوچکا ہے اور صراحت کے ساتھ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ میدان جنگ میں شامل ہونے کا فتویٰ جاری کیا، یہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ عالم اسلام کے لئے ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارے ملک کی حکومت عجیب ہے جو پھٹی ہوئی قمیص کی طرح ہے ، پی ڈی ایم حکومت کررہی ہے اور صدر اپوزیشن میں ہے ، بجائے اس کے وہ صدر کی مانیں معلوم نہیں کس کی مان رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج مسلمان حکمرانوں کو احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ ان سے کیا چاہتی ہے۔ہماری حکومت امت مسلمہ کے بجائے امریکہ کی خوشنودی میں لگی ہے۔ آزادی کا حق نہ کشمیری سے چھینا جا سکتا ہے اور نہ فلسطینیوں سے۔ کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی بھی شدید مذمت کی گئی جس میں انہوں نے فلسطینیوں کو اپنا آبائی وطن چھوڑنے اور ہجرت کرنے کا کہا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ان کے راتب خوروں کانفرنس میں نے کہا کہ کے لئے ہے اور

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان