لاہور ہائیکورٹ: ڈانس پارٹی سے گرفتار ملزمان کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے پر پولیس کیخلاف اظہار برہمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
قصور میں ڈانس پارٹی کے دوران پولیس چھاپے کےبعد گرفتار ملزمان کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے کی۔
جسٹس علی ضیا باجوہ نے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کو معاونت کے لیے طلب کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچیوں کو ایسی جگہ پر نہیں جانا چاہیے تھا لیکن پولیس کو بھی اجازت نہیں کہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلے۔
جسٹس علی ضیا باجوہ کا کہنا تھا کہ عدالت ڈانس پارٹی اور منشیات کے استعمال کی اجازت نہیں دے سکتی، ایس ایچ او کو کیسے جرات ہوئی کہ بچیوں کی بال پیچھے کرکے وڈیو بنائیں، ایس ایچ او نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی ہے، لڑکیوں کے بال پیچھا کرکے وڈیو بنانے والی خاتون کانسٹیبل کا کیا بنا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ڈانس پارٹی میں زہریلی شراب پی کر 2 خواتین، ایک مرد ہلاک
ڈی پی او قصور نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے صبح 5 بجے تک بیٹھ کر انکوائری کی، ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے، یہ ایونٹ پرائیوٹ نہیں کمرشل ایونٹ تھا، باقاعدہ ڈانس پارٹی کے لیے ٹکٹ کا ریٹ مختص کیا گیا تھا۔
جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ایسی صورتحال تھی تو مقدمہ سے تمام ملزمان ڈسچارج کیسے ہوئے، ڈی پی او نے بتایا کہ مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ وارنٹ آف اریسٹ سے قبل چھاپہ مارا گیا،اس لیے تمام ملزمان کو ڈسچارج کرنا پڑا۔
عدالتی استفسار پر ڈی پی او قصور نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شراب سمیت دیگر اشیا برآمد ہوئیں، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا، منشیات کے استعمال اور قانون کے خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: کراچی غیر ملکی اسکول کی ڈانس پارٹی، نشے میں دھت 10 افراد گرفتار
پروسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ کا موقف تھا کہ کسی دوسرے ملک میں ملزمان کو ایکسپوز کرنے کا قانون موجود نہیں، انہوں عدالت سے استدعا کی کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹک ٹاک بنانے پر پابندی لگائی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروسیکیوٹر جنرل پنجاب پولیس چھاپے جسٹس علی ضیا باجوہ ڈانس پارٹی سید فرہاد علی شاہ قصور لاہور ہائیکورٹ وائرل وارنٹ آف اریسٹ ویڈیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروسیکیوٹر جنرل پنجاب پولیس چھاپے جسٹس علی ضیا باجوہ ڈانس پارٹی سید فرہاد علی شاہ لاہور ہائیکورٹ وائرل وارنٹ ا ف اریسٹ ویڈیو جسٹس علی ضیا باجوہ ڈانس پارٹی
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔