امریکی کانگریس مینز کے وفد اور وزیر داخلہ کا کرتار پور راہداری کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
نارووال : امریکی کانگریس مینز کا وفد اور وزیر داخلہ محسن نقوی سکھ برادری کی خوشیوں میں شرکت کے لیے کرتار پور راہداری پہنچ گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفد میں امریکی کانگریس مین تھامس رچرڈ سوازی، امریکی کانگریس مین جوناتھن جیکسن، قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر اور امریکی قونصل جنرل کرسٹن کے ہاکنز شامل تھے۔
وفد کا درشنی ڈیوڑھی کے باہر سکھ برادری کی سرکردہ شخصیات نے پرتپاک استقبال کیا اور پھول پیش کیے، امریکی کانگریس مینز تھامس رچرڈ سوازی، جوناتھن جیکسن نے بیساکھی میلے کی سکھ برادری کو مبارکباد دی۔
وفد نے گوردوارہ صاحب کا دورہ کیا، بابا گرونانک دیو جی سے وابستہ مختلف اشیاء دیکھیں، انہیں گوردوارہ صاحب کرتارپور کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وفد نے گوردوارہ صاحب میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی اور تاریخی کنواں بھی دیکھا۔
وفد کے ارکان کو سروپا پہنایا گیا اور کرپان پیش کی گئی، وفد سے بھارت سے آئے سکھ یاتریوں نے ملاقات کی۔ سکھ برادری نے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
امریکی کانگریس مینز خصوصی طور پر لنگر ہال گئے اور سکھ برادری کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ وفد نے کرتارپور راہداری اور گوردوارہ صاحب میں سہولتوں کو سراہا۔
امریکی کانگریس مین تھامس رچرڈ سوازی نے کہا کہ سکھ برادری کے میلے میں شرکت کرکے دلی خوشی ہوئی۔ جوناتھ جیکسن نے کہا کہ کرتار پور راہداری اور گوردوارہ صاحب میں پاکستان نے سکھ یاتریوں کے بہترین انتظامات کئے ہیں۔ امریکی وفد نے پاکستان کی جانب سے کئے گئے انتظامات کو سراہا۔ امریکی وفد نے زیرو پوائنٹ کا بھی دورہ کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سکھ یاتریوں کے لئے بہترین سہولیات مہیا کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، سکھ یاتریوں کے لئے ویزا کے حصول کو آسان بنایا ہے۔محسن نقوی
چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سکھ یاتری پاکستان آئیں اور اپنے مقدس مقامات پر جائیں۔ محسن نقوی
پاکستانی محبت کرنے والے اورپرامن لوگ ہیں۔محسن نقوی
پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔محسن نقوی
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی کانگریس مینز گوردوارہ صاحب سکھ یاتریوں سکھ برادری محسن نقوی وفد نے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں