فواد خان کی بھارتی فلم ’عبیر گلال‘ کے پہلے گانے نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچادی
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
ہندوتوا کے غنڈوں کی دھمکیوں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے پاکستانی اداکار فواد خان کی بھارتی فلم عبیر گلال میں وانی کپور کے ساتھ فلمایا گیا پہلا نغمہ ’خُدایا عشق‘ یوٹیوب پر ریلیز کردیا گیا۔
فواد خان کی جس فلم کا ان کے بھارتی اور پاکستانی مداحوں کو بے چینی سے انتظار ہے اس کا پہلا نغمہ یوٹیوب پر ریلیز کردیا گیا۔
فلم عبیر گلال کے گانے ’’خُدایا عشق‘‘ کو ارجیت سنگھ اور شلپا راؤ نے گایا ہے جب کہ اس کی مدھر موسیقی امیت ترویدی نے ترتیب دی ہے۔
گانے کے دل کو چھولینے والے الفاظ معروف نغمہ نگار کمار نے لکھے ہیں جب کہ اس کی عکس بندی برطانیہ میں ہوئی ہے۔
گانے میں فواد خان اور وانی کپور کے درمیان رومانوی کیمسٹری سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلم جذباتی اور جاندار اداکاری سے سجی ہوگی۔
یاد رہے کہ یہ فلم 9 مئی 2025 کو سینما گھروں کی زینت بنے گی جس کی کہانی ایسے دو اجنبیوں کے گرد گھومتی ہے جنہیں قسمت نے ملادیا اور وہ غیر متوقع طور پر محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔
فواد خان 9 سال بعد کسی بھارتی فلم میں نظر آئیں گے جس پر جہاں انھیں انتہاپسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملیں تو وہیں بھارتی اداکاروں نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فواد خان
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔