بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات کیلئے راضی ہیں: اعظم سواتی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
سٹی42:ہم نے بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات کیلئے راضی کرلیا ہے، پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کا دعویٰ، کہا کہ ملک کو تباہی سے بچانے کا حل مذاکرات ہیں، بانی پی ٹی آئی اور ہمیں ملک کی فکر ہے۔
تفصیلات کےمطابق پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی نے لاہور کی اے ٹی سی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ملک میں ضروری ہیں، میں ڈاکٹر عارف علوی کے آنے کا انتظار کررہا ہوں، اس ملک کو تباہی سے بچانا ہے تو حل صرف مذکرات ہے۔
حکومت کا مقصد پائیدار سرمایہ کاری پر مبنی، برآمدات کو فروغ دینے والی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا ہے؛ وزیر خزانہ
اعظم سواتی نے دعویٰ کیا کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات کے لیے راضی کیا ہے، بانی پی ٹی آئی اور ہمیں ملک کی فکر ہے اور اس کی نسلوں کی فکر ہے، کوئی ایسا لیڈر اس وقت پاکستان میں موجود نہیں جو ملک کو بہتر سمت لیکر جا سکے۔
مجھے یقین ہے کہ فیصلہ ساز بھی سوچنے پر مجبور ہیں، کیونکہ انکا بھی ملک ہے انکی بھی یہ عزت ہے، میں سمجھتا ہوں جب کوئی بات ہوگی عارف علوی صاحب کو آنے دیں۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہاں بھی کوئی برف پگلی ہے؟ جواب دیتے ہوئے اعظم سواتی نے کہا اللہ کرے کیونکہ یہ ملک سب کا سانجھا ہے، حل صرف مذکرات ہے۔
گوجر خان میں شادی کا کھانا کھانے سے سینکڑوں افراد کی حالت غیر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی اعظم سواتی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔