راولپنڈی: فاسٹ فوڈ چین پر ہنگامہ آرائی ، 48 گھنٹوں میں 10 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
راولپنڈی (نیوز ڈیسک) تھانہ کینٹ کے علاقے میں واقع ایک نجی فاسٹ فوڈ چین کی برانچ پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے معاملے پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر واقعے میں ملوث 10 مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی نے ڈی ایس پی کینٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
سی پی او نے کہا کہ پولیس نے دن رات محنت کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی اور کارروائی کرتے ہوئے بارہ رکنی گروہ میں سے 10 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں کامران، نسیم، توصیف، خضر، منصور، زاہد، آصف، عظمت، ناصر اور حمزہ شامل ہیں۔
سی پی او کا کہنا تھا کہ واقعے کے دوران ہنگامہ آرائی کی گئی، فوڈ چین کے عملے اور وہاں موجود فیملیز کو ہراساں کیا گیا، اور توڑ پھوڑ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے تھے۔ پولیس نے فوری ردعمل کے تحت ان کی تلاش شروع کی اور کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کو تحفظ دینا پولیس کی اولین ترجیح ہے، خصوصاً فیملیز، ریسٹورینٹس، اور کمرشل ایریاز میں موجود لوگوں کو۔ مری روڈ، کمرشل ایریاز اور صدر میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں اور ان کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
سی پی او نے واقعے میں ملوث افراد کو “شر پسند عناصر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور شہر کے امن کو خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مہذب معاشروں میں ایسے واقعات ناقابل قبول ہیں اور ان کے تدارک کے لیے علمائے کرام اور میڈیا کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں آگاہی سیمینارز بھی شامل ہوں گے۔
سی پی او نے واضح کیا کہ گرفتار افراد کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، تاہم ایک شخص ٹک ٹاکر ہے جو مبینہ طور پر ایڈونچر کی نیت سے اس ہنگامے میں شامل ہوا۔
پولیس نے شہر بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور ایسے تمام مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جہاں ایسے خطرات موجود ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔