امریکی ترجمان کو چینی لباس پہن کر چین پر تنقیدمہنگی پڑ گئی، وائٹ ہاوس ایسی حرکتوں سے باز رہے ، بیجنگ کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
بیجنگ (اوصاف نیوز)چینی سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کا پہنا ہوا لباس چین میں بنایا گیا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے دوران چین کے سفیر ژانگ زی شین نے لیویٹ کے لباس سے متعلق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پرر ٹوئٹ کر کے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا۔
چینی سفارتکار ژانگ ژیشینگ جو انڈونیشیا کے ڈینپاسار میں عوامی جمہوریہ چین کے قونصل جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے سرخ اور سیاہ لیس والے ڈریس کی ایک تصویر شیئر کی۔
انہوں نے پوسٹ میں طنزیہ انداز میں لکھا کہ چین پر الزام لگانا کاروبار ہے، چین سے خریداری زندگی۔ژانگ نے کیرولین لیویٹ کے لباس سے مشابہت رکھنے والے ڈیزائن کی تصاویر بھی پوسٹ کیں جو چینی ویب سائٹس پر فروخت کیلئے موجود ہیں۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ چین پر تنقید کرنا وائٹ ہاؤس کی ستم ظریفی ہے جب کہ اس کے اپنے اہلکار ’میڈ اِن چائنا‘ مصنوعات پہنتے ہیں۔ژانگ نے مزید انکشاف کیا کہ لباس کی لیس چین کے شہر ما بو کی ایک فیکٹری میں تیار کی گئی تھی جسے وہاں کے ایک ملازم نے پہچانا۔
ٹرمپ انتطامیہ نے اسرائیل کیلئے بھاری مقدار میںجنگی ہتھیاراور بم ارسال کردیئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔