متحدہ عرب امارات میں شادی، طلاق اور بچوں کی تحویل سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں 15 اپریل سے وفاقی پرسنل اسٹیٹس قانون میں اہم تبدیلیوں کا اطلاق ہوگیا ہے، جن میں شادی، طلاق، بچوں کی تحویل اور ازدواجی زندگی سے متعلق کئی نئے اصول شامل کیے گئے ہیں۔
نئے قانون کے تحت خواتین کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اور اگر ان کے سرپرست انکار کریں تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔ اگر خاتون غیر ملکی مسلم ہو اور اس کے ملک کے قانون میں سرپرست کی اجازت لازمی نہ ہو تو شادی کے لیے سرپرست کی منظوری ضروری نہیں ہوگی۔
قانون کے مطابق شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، اور اگر میاں بیوی کے درمیان عمر کا فرق 30 سال سے زیادہ ہو تو شادی صرف عدالت کی منظوری سے ہی ممکن ہوگی۔
منگنی کو ایک قانونی وعدہ تصور کیا گیا ہے، لیکن اسے شادی نہیں مانا جائے گا۔ اگر منگنی ختم ہو جائے تو 25 ہزار درہم سے زائد مالیت کے تحائف واپس کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ شادی کے وعدے سے مشروط ہوں۔
ازدواجی گھر کے حوالے سے بھی قانون میں وضاحت کی گئی ہے کہ بیوی کو مناسب رہائش فراہم کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے، اور شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اپنے والدین یا دوسری شادی سے بچوں کو رکھ سکتا ہے اگر اس سے بیوی کو نقصان نہ ہو۔
بچوں کی تحویل کے معاملے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اب تحویل کی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، اور 15 سال یا اس سے زائد عمر کے بچے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ والد یا والدہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
قانون میں ایسے افراد کے لیے بھی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں جو بچوں کے ساتھ بغیر اجازت سفر کریں یا والدین کی ذمہ داریاں نظر انداز کریں۔ ایسی خلاف ورزیوں پر 5 ہزار سے ایک لاکھ درہم تک جرمانہ یا قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔