کشور کمار نے بیمار مدھو بالا کو مرنے کیلیے تنہا چھوڑ دیا تھا، اداکارہ کی بہن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ گلوکار کشور کمار اور ماضی کی حسین ترین ہیروئن مدھو بالا کی ذاتی زندگی کے تلخ حقائق ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گئے۔
مادھو بالا کی بہن مدھر بھوشن نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بہنوئی کشور کمار نے میری بہن کو بیماری کی حالت میں مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا تھا۔
فلمی دنیا کی ’ٹریجڈی کوئین‘ مدھو بالا نے دلیپ کمار سے تعلق ختم ہونے کے بعد گلوکار کشور کمار سے شادی کی تھی۔
یہ شادی اس وقت ہوئی جب مدھو بالا کو دل کی ایک سنگین بیماری لاحق ہو چکی تھی اور ڈاکٹرز نے واضح کر دیا تھا کہ وہ صرف 2 سال زندہ رہ سکیں گی۔
یہ خبر بھی پڑھیں : بال ٹھاکرے جوانی میں مدھو بالا کے دیوانے تھے
مدھو بالا کی بہن مدھر بھوشن نے بتایا کہ کشور کمار بہن کو لندن علاج کے لیے لے کر گئے لیکن ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔
مدھر بھوشن نے کہا کہ کشور کمار بہن اپنے ساتھ لے جانے کے بجائے ہمارے گھر چھوڑ گئے اور کہا کہ میں کئی پروجیکٹس میں پھنسا ہوا ہوں اور بہت مصروف ہوں۔ اس لیے دیکھ بھال نہیں کرسکتا۔
جس کے بعد کشور کمار نے مدھو بالا کے لیے ممبئی کے کارٹر روڈ پر ایک فلیٹ خریدا جس میں وہ اکیلی ہی رہتی تھیں۔ بہنوئی مہینوں بعد آتے اور اکثر ان کا فون بھی بند رہتا تھا۔
مدھر بھوشن نے کہا کہ کشور کمار میری بہن کو کہا کرتے تھے اگر میں روز آؤں گا تو تم مجھے دیکھ کر رو گی اور اس طرح دل پر اثر پڑے گا۔
مدھر بھوشن کے مطابق، مدھو بالا کو ڈاکٹروں نے صرف دو سال دیے تھے، لیکن ان کی حیران کن قوتِ ارادی نے انہیں نو سال تک زندہ رکھا۔ وہ آخرکار 1969 میں محض 36 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مدھر بھوشن نے مدھو بالا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔