جب شادی قسمت میں لکھی ہوگی جس کیساتھ لکھی ہوگی ہوجائے گی، صبا قمر
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اداکارہ صبا قمر کا کہنا ہے کہ ان کی شادی جب قسمت میں لکھی ہوگی اور جس کے ساتھ ہونی ہوگی ہو جائے گی۔
حال ہی میں ایک پوٖڈکاسٹ کے دوران اداکارہ صبا قمر سے میزبان نے سوال کیا کہ جو بھی اداکارہ عثمان مختار کیساتھ کام کرتی ہیں ان کی شادی ہوجاتی ہے اور یہ بات کافی مشہور ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔
اس سوال کے جواب میں 41 سالہ اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب ان کی شادی قسمت میں لکھی ہوگی اور جس کیساتھ لکھی ہوگی ہو جائے گی۔ صبا قمر کا کہنا تھا کہ ابھی تو وہ آن اسکرین رومانس سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔
محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے صبا قمر کا کہنا تھا کہ وہ اتنی مصروف ہوتی ہیں کہ ان کی 8 گھنٹے کی نیند بھی مشکل سے پوری ہوتی ہے ایسے میں وہ محبت کیلئے وقت کیسے نکالیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ شادی محبت اور بچے یہ سب قسمت میں لکھے ہوتے ہیں اس لئے نہ وقت سے پہلے مل سکتے ہیں نہ ہی وقت کے بعد، جس وقت جو چیز لکھی ہوگی تب ہی ملے گی چاہیں آپ جتنا زور لگا لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔