دونوں ڈے کیئر سنٹرز کی تعمیر سکردو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کرے گا، سکردو شہر کے لئے ڈے کیئر سنٹر ویمن ڈگری کالج سکردو میں تعمیر کیا جائے گا جبکہ دوسرا ڈے کیئر سنٹر گرلز ہائی سکول گمبہ میں تعمیر کیا جائے گا، ان منصوبوں کی تعمیر کا مقصد ملازمت کرنے والی خواتین کے بچوں کی نگہداشت کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کلثوم فرمان نے سکردو شہر میں دو ڈے کیرئر سنٹرز کا سنگ بنیاد رکھ دیا، دونوں ڈے کیئر سنٹرز کی تعمیر سکردو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کرے گا، سکردو شہر کے لئے ڈے کیئر سنٹر ویمن ڈگری کالج سکردو میں تعمیر کیا جائے گا جبکہ دوسرا ڈے کیئر سنٹر گرلز ہائی سکول گمبہ میں تعمیر کیا جائے گا، ان منصوبوں کی تعمیر کا مقصد ملازمت کرنے والی خواتین کے بچوں کی نگہداشت کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔ ممبر اسمبلی بیگم کلثوم فرمان نے ڈائریکٹر جنرل ایس ڈی غضنفر علی کے ہمراہ بدھ کے روز دونوں منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا، گرلز ہائی سکول گمبہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کلثوم فرمان نے کہا کہ ڈے کیئر سنٹر سکردو کی ملازمت پیشہ خواتین کا دیرینہ مطالبہ تھا اور ایک ورکنگ ویمن کی حثیت سے اس منصوبے کی ضرورت کا مجھے زیادہ احساس تھا، امید ہے ایس ڈی اے دیگر منصوبوں کی طرح اس منصوبے کے بھی معیاری اور بروقت تعمیر کو یقینی بنائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں تعمیر کیا جائے گا ڈے کیئر سنٹر کی تعمیر

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال