پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا کنٹرول بھی ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ ان سے بات نہیں کرےگی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا کنٹرول بھی ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ ان سے بات نہیں کرےگی، سجھ نہیں آتی تحریک انصاف کس معاملے پر بات کرنا چاہتی ہے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں کسی بھی حق سے محروم نہیں کیا جارہا، ان کی ہفتے میں چار چار ملاقاتیں ہورہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں موجودہ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں کرےگی، رانا ثنااللہ
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ عمران خان کرپشن کے کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ جیل میں قید نہیں بلکہ چھٹیاں منا رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی میں ہر کسی کا اپنا اپنا گروپ ہے، سمجھ نہیں آتا کہ کون سا گروپ کس کی ملاقاتیں روک رہا ہے، حکومت کے پاس اتنا وقت نہیں کہ سوچے تحریک انصاف کو کیسے تقسیم کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے جو لوگ ملک سے باہر بیٹھے ہیں وہ خود تحریک انصاف کے کنٹرول میں نہیں رہے، آرمی چیف کی تقریر کے بعد وضاحت ہوگئی ہے کہ 9 مئی پر کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں عطااللہ تارڑ نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کا ایک مقام ہے، وہ پاکستان آکر ملاقاتیں کرتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور یہ سب ایک ٹیم ورک کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے، ملکی معیشت کے حوالے سے تمام اشارے مثبت ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ ہیں، اور اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی اس معاملے پر کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی بات چیت کے ذریعے پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کریں گے، ہم بجٹ کے معاملے پر بھی ان سے بات چیت کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پیٹرول پر بچت کی رقم بلوچستان میں لگانے کا فیصلہ، وزیراعظم کے اعلان پر عوام کا ردعمل کیا ہے؟
ایک سوال کے جواب میں عطااللہ تارڑ نے مزید کہاکہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا، پیٹرول پر بچت کی رقم سے بلوچستان کا فائدہ ہوگا، تو یہ پورے پاکستان کا فائدہ ہے۔ آنے والے دنوں میں سکھر موٹروے کے حوالے سے بھی خوشخبری آنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اڈیالہ جیل آرمی چیف اوورسیز پاکستانیز کنونشن اوورسیز کے لیے اعلانات پی ٹی آئی عطااللہ تارڑ عمران خان رہائی ملکی معیشت وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل ا رمی چیف اوورسیز پاکستانیز کنونشن اوورسیز کے لیے اعلانات پی ٹی ا ئی عطااللہ تارڑ عمران خان رہائی ملکی معیشت وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز عطااللہ تارڑ نے انہوں نے کہاکہ وزیر اطلاعات پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔