برطانوی سپریم کورٹ کا ٹرانس جینڈر خواتین سے متعلق تاریخی فیصلہ آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
برطانیہ کی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلے میں متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ مرد و عورت صرف دو ہی جنس ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے ججز نے لکھا کہ ایک عورت سے مراد وہ ہے جس نے عورت کے طور پر جنم لیا ہو۔
ججز نے مزید لکھا کہ قانونِ مساوات (Equality Act 2010) میں عورت کی تعریف قانونی صنفی بنیاد پر نہیں بلکہ حیاتیاتی جنس کی بنیاد پر کی جائے گی یعنی نومولود کس جنس کے طور پر پیدا ہوا۔
یہ فیصلہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "فار ویمن اسکاٹ لینڈ" کے کیس کے بعد آیا، جس نے اسکاٹش حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
تنظیم کا مؤقف تھا کہ قانون میں "جنس" اور "خاتون" کی تعریف صرف ان افراد کے لیے ہونی چاہیے جو پیدائشی طور پر خواتین ہیں۔
عدالت نے موقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ کسی ایک فریق کی فتح یا دوسرے کی شکست نہیں بلکہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے۔
ججز نے مزید واضح کیا کہ یہ قانون ٹرانس جینڈر افراد کو بھی امتیازی سلوک سے بچاؤ فراہم کرتا ہے۔
ادھر اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس کے اثرات پر غور کرے گی۔
برطانوی حکومت کا بھی کہنا تھا کہ یہ فیصلہ خواتین اور انھیں خدمات فراہم کرنے والوں کو اعتماد فراہم کرے گا۔
دوسری جانب کنزرویٹیو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے اسے ان خواتین کی فتح قرار دیا جنہیں صرف سچ بولنے پر تنقید یا ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
مصنفہ جے کے رولنگ نے اس فیصلے کو سراہا اور اُن تین "بہادر اور ثابت قدم" خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے یہ کیس عدالت تک پہنچایا۔
تاہم گرین پارٹی کی میگی چیپ مین نے فیصلے کو انسانی حقوق کے لیے تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ اس سے ٹرانس افراد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
قانونی ماہر ڈاکٹر نک مک کیرل کے مطابق، یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر کوئی ٹرانس جینڈر خاتون کسی خواتین کے لیے مخصوص مقام پر روکی جاتی ہے تو وہ اب یہ دلیل نہیں دے سکتی کہ اسے خاتون ہونے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
کیس کا پس منظریہ قانونی تنازع 2018 میں شروع ہوا جب اسکاٹش پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا تھا جس میں عوامی اداروں میں صنفی توازن کو یقینی بنانے کے لیے ٹرانس جینڈرز افراد کو خواتین کے کوٹے میں شامل کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔