سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: بانجھ پن پر عورت کو نان و نفقہ سے محروم کرنا غیر قانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: بانجھ پن پر عورت کو نان و نفقہ سے محروم کرنا غیر قانونی قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 24 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے بانجھ پن کو نان و نفقہ اور مہر سے انکار کی بنیاد بنانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایک شوہر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے شوہر صالح محمد کی درخواست مسترد کر دی، جو اپنی بیوی کو بانجھ کہہ کر اس کے تمام شرعی و قانونی حقوق چھیننا چاہتا تھا۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بانجھ پن کسی عورت کی ”عزت نفس، نسوانیت یا بیوی ہونے“ کی اہلیت پر سوال اٹھانے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ سپریم کورٹ نے شوہر کے اس رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین کی تضحیک معاشرتی تعصب کو ہوا دیتی ہے، اور عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے رویوں کا سدباب کریں۔
فیصلے میں انکشاف ہوا کہ شوہر نے اپنی بیوی پر صرف بانجھ پن ہی کا الزام نہیں لگایا، بلکہ اسے ”عورت نہ ہونے“ تک کا کہہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی زبان اور الزامات ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہیں۔ شوہر نے اپنی بیوی کو والدین کے گھر چھوڑ کر دوسری شادی کر لی اور اس کے بعد پہلی بیوی کے نان و نفقہ اور حق مہر سے بھی انکار کر دیا، جو کہ واضح طور پر اسلامی اور ملکی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے بتایا کہ بیوی کی جانب سے پیش کی گئی میڈیکل رپورٹس نے شوہر کے تمام الزامات کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خاتون کو 10 سال تک مسلسل تضحیک اور اذیت کا نشانہ بنایا گیا، جس پر شوہر کو سزا دی گئی۔ جھوٹے الزامات اور عدالت کا وقت ضائع کرنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ’عورت کی عزت نفس ہر حال میں محفوظ ہونی چاہیے‘ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کو خارج کر دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرراولپنڈی: سابق صوبائی وزیر راجا بشارت کو گرفتار کرلیا گیا راولپنڈی: سابق صوبائی وزیر راجا بشارت کو گرفتار کرلیا گیا برساتی نالے میں بہہ جانے والے ریٹائر کرنل کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری، گاڑی کا دروازہ اور بونٹ بھی مل گیا دیامر سیلاب: ڈاکٹر مشعال کے 3 سالہ بیٹے کی لاش 3 دن بعد مل گئی لارڈ قربان حسین کی کشمیر میں بھارتی مظالم، سندھ طاس معاہدہ معطلی اور بھارتی جارحیت پر کڑی تنقید عافیہ صدیقی کیس؛ وزیراعظم اور کابینہ کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھیجنے کا معاملہ رُک گیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آل پارٹیز کانفرنس آج ہوگی، اپوزیشن کا شرکت سے انکارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔