تمام صوبوں کو ساتھ لیکر چلنا حکومت، افواج کا وژن، بلوچستان کی سڑکوں کے مخالف تنگ نظر: شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترقی و خوشحالی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ اجتماعی کوششوں سے معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کی اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو مستحکم کردیا ہے اور ملک اب ترقی اور خوشحالی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سب کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ سامنے ہے کہ نہ صرف پاکستان کی ریٹنگ بہتر ہو گئی ہے بلکہ عالمی ایجنسی فچ کی جانب سے بھی پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ سب بہتری ٹیم ورک اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے ملکی معیشت کو استحکام ملا ہے۔ جس طرح سے ہم نے اپنے عزم کے ساتھ مشکلات کا سامنا کیا، اسی طرح ترقی کا سفر بھی طے کرکے سرخرو ہوں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کا ٹریک 2 ہزار کے قریب جانیں نگل چکا، اس خونی ٹریک کو ہائی وے بنانے جارہے ہیں۔ بلوچستان میں سڑکوں کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے تنگ نظر ہیں۔ کراچی، قلات، خضدار اور کوئٹہ شاہراہ منصوبہ اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کریں گے۔ اس کی کوالٹی موٹر وے جیسی ہوگی۔ 2 سال میں 300 ارب سے زائد کے تخمینے سے شاہراہ تعمیر ہوگی۔ بلوچستان کے عوام کو ایسا منصوبہ چاہیے تھا جو تمام اقوام کے دل کی آواز ہو۔ این ایف سی میں بھی بلوچستان کا کوٹہ ڈبل کردیا گیا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا حکومت اور مسلح افواج کا وژن ہے۔ پاکستان کی تکمیل تمام اکائیوں سے ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں توسیع و تزئین کے وسیع و عریض منصوبے جاری ہیں۔ ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آچکی ہے۔ بہترین اقدامات کے لیے محسن نقوی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی نے بتایا کہ جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کو 60 کے بجائے صرف 35 روز میں مکمل کریں گے اور مجھے پورا یقین ہے۔ کیوں کہ ماضی میں وہ اپنے اعلانات کے مطابق کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ شہباز سپیڈ ہے اور نہ ہی محسن سپیڈ بلکہ یہ پاکستان سپیڈ ہے۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+خبر نگار خصوصی ) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو کے جائزہ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ملک بھر میں 10 فروری کے بعد سے پولیو کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں، بین الاقوامی اداروں اور شراکت داروں کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ شہباز شریف نے پولیو مہم کے ساتھ ساتھ دیگر خطرناک بیماریوں کے خلاف مدافعت کے لیے معمول کی ویکسی نیشن کی ملک گیر فراہمی کو 100 فیصد یقینی بنائی جائے۔ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے محنتی پولیو ورکرز پر فخر ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری برائے مذاہب، کمیونٹیز اور آبادکاری لارڈ واجد خان نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے لارڈ واجد خان کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور اوورسیز پاکستانیز کنونشن میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے ہز میجسٹی کنگ چارلس سوم کے ساتھ ساتھ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی تبادلوں اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ لارڈ واجد خان نے وزیراعظم کو اپنی حالیہ سرگرمیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا جن کا مقصد پاکستان-برطانیہ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیجارتو (Mr.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان اور ہنگری کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ہنگری کے وزیر پاکستان کی نے کہا کہ کے دوران کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔