پاکستان میں موجود 75 فیصد افغان کے پاس دستاویزات نہیں ہیں، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود 75 فیصد افغانیوں کے پاس کوئی دستاویزات موجود نہیں، بغیر ویزا کے یہاں اب کوئی نہیں رہے گا سب کو واپس جانا ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ میں افغانستان کے وفد سے ملاقات ہوئی افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو ان کے ملک واپس بھیجا جا رہا ہے، 40 سال تک پاکستان نے افغانستان کی مہمان نوازی کی مگر اب بغیر ڈاکومنٹس اور ویزا کے کوئی بھی غیرملکی یہاں نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ویزا پالیسی آن لائن ہے بغیر دستاویزات اور پاسپورٹ پر حکومت کی زیرو ٹالیرنس پالیسی ہے، 84 ہزار 869 افغان واپس بھیجے گئے ان میں سے کچھ لوگوں کے پاس کوئی بھی دستاویز موجود نہیں تھی، ٹرانزٹ پوائنٹس پر افغانیوں کو تمام سہولیات دی جاتی ہیں ٹرانزٹ پوائنٹس سے افغانیوں کو ٹرانسپورٹ دی جاتی ہے تاکہ وہ عزت سے اپنے ملک جائیں جلد ہی ایک اعلیٰ سطح وفد افغانستان جا رہا ہے جس کی سربراہی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کریں گے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان سے افغانیوں کے انخلاء میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی، کسی بھی افغانی کو رہائش، کاروبار کے حوالے سے مدد کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، دس لاکھ ویزوں کا اجراء کیا گیا جس میں ایکسٹینشن کی گنجائش بھی موجود ہے۔
انہوں ںے کہا کہ پاکستان اور افغانستان سے آنے والی خبروں کی تحقیق کرتے ہیں اور پھر اس کی تصدیق کی جاتی ہے، کسی بھی قسم کی شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے، افغان ہمارے بھائی ہیں اور ہم نے 40 سال ان کی مہمان نوازی کی، اب ان کا انخلاء بھی ایسے ہی کیا جا رہا ہے جیسے ایک مہمان کا ہوتا ہے، پاکستان نے یہ فیصلہ ماڈرن دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق کیا ہے کوئی بھی شخص بغیر دستاویزات اور ویزا ملک میں موجود نہیں ہوگا ایسے شخصیات جن کی کہیں رجسٹریشن نہیں وہ غیر قانونی کام اور دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ 7 ہزار 391 لوگوں کو عزت کے ساتھ افغانستان بھیجا ہے، پاکستان
میں وہی شخص رہے گا جس کی دستاویزات مکمل ہوں گی اور جس کے پاس ویزا ہوگا، 30 اپریل کے بعد کیس ٹو کیس کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا، جو بھی شخص 30 اپریل کے بعد پاکستان میں ہو گا اس کے لئے ویزا ضروری ہے، یہ رعایت نہیں دی جائے گی کہ اس معاملے کو موخر کر دیا جائے یا تاریخ کو آگے کر دیا جائے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی ساری اکائیاں اس معاملے میں معاون ہیں، چاروں صوبے وفاق کے ساتھ معاونت کر رہے ہیں، آنے والے دنوں میں یہ عمل مزید تیز ہو گا، ہم نے افغانستان سے کہا ہے کہ آپ اپنے شہریوں کو باعزت طور پر اپنے ملک لے کر جائیں
ہمسایہ ملک کے طور پر ہم اس رشتے کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں، کسی بھی ملک میں جانے کیلئے پاسپورٹ اور ویزا ضروری ہے تو پاکستان کیلئے بھی ضروری ہے، افغانستان کی عبوری حکومت نے ایک معاہدہ کیا ہے کہ ان کی زمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایک اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ افغانستان جا رہے ہیں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، ایک ملین اسلحہ میں سے آدھے سے زیادہ کا غائب ہونا ہمارے موقف کی تائید ہے، پاکستان مسلسل یہ معاملہ اٹھا رہا ہے کہ افغانستان اور عالمی قیادت اپنا کردار ادا کریں، افغانیوں کے انخلاء کے حوالے سے ڈیڈ لائن میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی، 75 فیصد پاکستان میں موجود افغانیوں کے پاس کوئی دستاویزات موجود نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں افغانیوں کے موجود نہیں نے کہا کہ جائے گی رہا ہے کے پاس
پڑھیں:
افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
بشکیک(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سلور جوبلی پوری تنظیم کیلئے باعث فخر ہے، کرغزستان نےاجلاس کی بہترین میزبانی کی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او اب معیشت، ثقافت اور امن کا جامع فورم بن چکی ہے، ایس سی او خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی و تعمیری سفارتکاری کی بنیاد ہے۔
پشاور ؛ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی لڑکے کا قتل، مقدمہ درج
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کے شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے، افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے، 560 پاکستانی شہید ہوئے، افغان طالبان دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے پر زور دے۔
’بچے بہت پسند ہیں لیکن ماں نہیں بن سکتی‘، انایا بنگر نے جنس کی تبدیلی کے بعد اہم حقیقت بتا دی
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے، مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔
انہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کی دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی روابط اور خطے و عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہماری بھرپور سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔
مزید مون سون بارشوں اور بعض شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیش نظر پنجاب بھر میں احتیاطی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایات
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ اسلام آباد ایم او یو اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تنازع کے مستقل، پُرامن اور دیرپا حل کے لیے بھرپور کوشش کرے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان عناصر کے خلاف ہوشیار رہنے پر زور دیا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور اب تک ہونے والی پیش رفت کو الٹنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا۔