سپیکر خیبرپختونخوا پر اعظم سواتی کے مبینہ کرپشن الزامات، احتساب کمیٹی کی ابتدائی تحقیقات مکمل
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
احتساب کمیٹی میں سپیکر خیبرپختونخوا کے معاملے پر آج کئی گھنٹوں تک طویل اجلاس کا انعقاد ہوا، سپیکر خیبرپختونخوا نے مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیاں کی ہیں یا نہیں۔؟ فیصلہ تیسرے ممبر پر چھوڑ دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سپیکر خیبرپختونخوا بابر سلیم پر اعظم سواتی کے مبینہ کرپشن کے الزامات پر احتساب کمیٹی نے ابتدائی تحقیقات مکمل کر لیں۔ ذرائع کے مطابق سپیکر پر عائد الزامات کے معاملے پر احتساب کمیٹی کے ممبران کے درمیان اختلافات ہیں، ایک ممبر نے سپیکر کو تمام الزامات سے بری قرار دیا، دوسرے ممبر نے الزامات کو درست قرار دینے پر زور دیا۔2 ممبران کے درمیان اختلاف کے باعث تیسرے ممبر نے فیصلے کا اختیار مانگ لیا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے بابر سلیم سواتی کے معاملے پر آج کئی گھنٹوں تک طویل اجلاس کا انعقاد ہوا، بابر سلیم سواتی نے مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیاں کی ہیں یا نہیں۔؟ فیصلہ تیسرے ممبر پر چھوڑ دیا گیا۔ بابر سلیم سواتی پر فنڈز اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا بھی الزام عائد ہے، احتساب کمیٹی کے اجلاس میں سابق سپیکر اسد قیصر اور مشتاق غنی کے بھی بھرتیوں اور پروموشن کا جائزہ لیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سپیکر خیبرپختونخوا احتساب کمیٹی بابر سلیم
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔