ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت کے دوران بعض دیرینہ معاملات پر بات چیت ہوئی، جن میں 1971 کے واقعات پر بنگلہ دیش کی جانب سے رسمی معافی اور معاوضے کے مطالبات شامل تھے۔

دفتر خارجہ کی سیکریٹری آمنہ بلوچ گزشتہ دنوں 15 سال بعد دفتر خارجہ کی مشاورت کے لیے ڈھاکہ پہنچیں۔ ملاقات کے بعد بین الاقوامی میڈیا اور بنگلہ دیشی اخبارات ”ڈیلی اسٹار“ اور ”ڈھاکہ ٹریبیون“ نے رپورٹ کیا کہ بنگلہ دیش نے 1971 کے واقعات پر معافی، معاوضے، غیر ادا شدہ فنڈز اور 1970 کے سمندری طوفان کے لیے ملنے والے بین الاقوامی عطیات کی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیلی اسٹار کے مطابق بنگلہ دیشی سیکریٹری خارجہ جاشم الدین نے کہا کہ ’ان معاملات کو حل کیے بغیر مضبوط دوطرفہ تعلقات ممکن نہیں‘۔

ڈھاکہ ٹریبیون نے ان کے حوالے سے لکھا کہ ’یہ معاملات ہماری باہمی بنیاد کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔‘

جس کے بعد ہفتہ وار پریس بریفنگ میں سوال و جواب کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’کچھ دیرینہ معاملات واقعی زیر بحث آئے، تاہم دونوں فریقوں نے انہیں باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ماحول میں پیش کیا۔‘

شفقت علی خان نے کہا کہ بعض عناصر ’جھوٹی یا سنسنی خیز خبریں پھیلا کر‘ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات انتہائی خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’15 سال کے تعطل کے بعد ان مشاورتوں کا انعقاد دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی اور ہم آہنگی کا ثبوت ہے، اور گمراہ کن رپورٹس اس اہم پیشرفت کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتیں۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک نے سیاسی، معاشی، ثقافتی، تعلیمی اور تزویراتی تعاون پر وسیع تبادلہ خیال کیا، جو مشترکہ تاریخ، ثقافتی ہم آہنگی اور عوامی امنگوں پر مبنی ہے۔ دونوں فریقوں نے نیویارک، قاہرہ، ساموآ اور جدہ میں ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور تعلقات میں بہتری کے لیے مسلسل ادارہ جاتی رابطے، زیر التواء معاہدوں کی جلد تکمیل، تجارت، زراعت، تعلیم اور روابط میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے اپنی زرعی جامعات میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ بنگلہ دیش نے فشریز اور میری ٹائم اسٹڈیز میں تکنیکی تربیت کی پیشکش کی۔ بنگلہ دیشی فریق نے پاکستانی نجی جامعات کی جانب سے اسکالرشپ کی پیشکش کو سراہا اور تعلیم کے شعبے میں مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اگست میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ دسمبر میں قاہرہ میں ڈی-8 کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان ملاقات میں 1971 کے تناظر میں باقی ماندہ شکایات کو حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔

دونوں ممالک کی افواج بھی جنوری میں اس بات پر متفق ہوئیں کہ ان کے باہمی تعلقات کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھا جائے اور دیرپا شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اور بنگلہ دیش کے دفتر خارجہ کے درمیان نے کہا کہ کے بعد کے لیے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے خراب صحت کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی عمر 76 برس ہے اور وہ اپریل 2023 سے ملک کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ اور خاندان سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے

صدر کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد شہاب الدین نے حالیہ طبی معائنے کے بعد بتایا کہ انہیں آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری لاحق ہے جس کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر وقت کے لیے بے ہوشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے باعث وہ آئینی منصب کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر ہوں گے

بیان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے اسپیکر صدر کی آئینی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں لکھا کہ جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل متاثر ہونے کے باعث وہ صدر جیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں مزید نبھانے کے قابل نہیں رہے۔

شیخ حسینہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے

محمد شہاب الدین جنہیں عام طور پر ’چپو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے سنہ 2023 میں پارلیمنٹ کے ذریعے اس وقت صدر منتخب ہوئے تھے جب سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اقتدار میں تھی۔

مزید پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

تاہم  سنہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت منتقل ہو گئیں، جس کے بعد صدر شہاب الدین پر بھی مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔

فون پر رابطے کے الزامات

رواں سال مئی میں لندن میں زیر علاج ہونے کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، تاہم صدر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

عوامی لیگ پر پابندی برقرار

محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد شیخ حسینہ کا اعلیٰ ریاستی عہدوں پر موجود ایک اور اہم اتحادی بھی منظر سے ہٹ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے جبکہ سال 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد پارٹی کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ