الیکشن دھاندلی کیس کا تفصیلی فیصلہ؛ عمر ایوب کی درخواست ناقابل سماعت قرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
ِاسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اپریل2025ء)اسلام آبادہائیکورٹ نے این اے 18 ہری پور الیکشن دھاندلی کیس کے خلاف عمر ایوب کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے 6 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جاری کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ عمر ایوب کی درخواست اس عدالت کے سامنے قابل سماعت نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ کیس کے میرٹ پر کوئی فائنڈنگ نہیں دے رہی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ عمر ایوب کے خلاف درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے اور فریقین کو سن کر کارروائی کو آگے بڑھائے۔عدالت نے جولائی 2024 سے جاری حکم امتناع کو ختم کر دیا ہے، جو عمر ایوب کی درخواست پر الیکشن کمیشن کی کارروائی روکنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔(جاری ہے)
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت کی رائے میں یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے اور اگر درخواست گزار اس فیصلے سے متاثر ہوں تو وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ فریقین کو سماعت کا مکمل حق دے کر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ ساتھ ہی فیصلے کی کاپی الیکشن کمیشن کو بھی بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ نوٹس جاری کر کے کارروائی کو آگے بڑھا سکے۔فیصلے کے مطابق عمر ایوب نے دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کا 10 جولائی کا آرڈر چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی کارروائی روک دی تھی۔عمر ایوب کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے درخواست پر 60 دنوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور ان کے مطابق 60 دن گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن کی کارروائی غیر قانونی ہے۔واضح رہے کہ این اے 18 ہری پور میں عمر ایوب کے مخالف امیدوار نے دھاندلی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کر رکھا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمر ایوب کی درخواست الیکشن کمیشن کو درخواست پر عدالت نے کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔