اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 اپریل2025ء) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پرائیویٹ سکیم کے 67 ہزار عازمین کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت کوشاں ہے تاہم سعودی حکومت کی پالیسی تمام ممالک کے لئے یکساں ہے، جب دیگر ممالک کا فیصلہ ہوگا تو پاکستان کا یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا ، وزیرا عظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی کی رپورٹ جمع ہو چکی ہے جس کی بھی کوتاہی ہوگی اسے سزا ملے گی ۔

پیر کو یہاں پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام حج 2025 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور مجھے ایک ماہ قبل ہی ملی ہے۔ ، وزیر اعظم نے مجھے اچھا حج کرانے کی ذمہ داری دی ہے ، میں نے خود سعودی عرب جا کر انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے پتہ چلا کہ کافی بڑی تعداد میں عازمین کا اس مرتبہ حج کی سعادت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے، میں نے اور علامہ طاہر اشرفی نے اپنی بساط کے مطابق 67 ہزار عازمین کا حج کوٹہ بحال کرانے کی کوشش کی، وزیر خارجہ اسحق ڈار نے بھی کوشش کی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیر حج سعودی عرب ڈاکٹر توفیق الربیعہ کی کوششوں سے پاکستان کو دس ہزار کا حج کوٹہ مل گیا ہے ، سعودی عرب نے ایک لاکھ دو ہزار حج کوٹہ کا بتایا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے سعودی حکومت کو درخواست کی ہے کہ ہمدردی سے تمام پاکستانیوں کے لیے غور کریں ، سعودی حکومت نے دس ہزار عازمین کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دس ہزار کا کوٹہ اسی پرائیویٹ حج سکیم سے ہوا ہے ، کچھ لوگ اضافی حج کوٹہ کی بات کررہے ہیں جو درست نہیں ہے ۔

سعودی حکومت نے دیگر مسلم ممالک کوڈیڈ لائن سے رہ جانے والے عازمین کو موقع دیا تو پاکستانیوں کو بھی ضرور ملے گا، جو پالیسی بنے گی وہ پاکستان سمیت سب ممالک کے لئے ہوگی، اگر رہ جانے والے دیگر ممالک کے عازمین، حج پرگئے تو پاکستان کے بھی ضرور جائیں گے ، پاکستانی عازمین کا جو پیسہ سعودی عرب منتقل ہوا ہے وہ ضرور واپس ملے گا ۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سعودی حکومت وفاقی وزیر تو پاکستان حج کوٹہ کے لئے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم