بلوچستان میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 3 ہفتوں کے لیے کیوں ملتوی ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
بلوچستان میں انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا انعقاد 22 اپریل سے 20 مئی تک شیڈول تھے، لیکن گزشتہ شب بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے ان امتحانات کو 3 ہفتوں تک ملتوی کردیا جبکہ امتحانات کو ملتوی کرنے سے متعلق کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیئرمین بلوچستان بورڈ محمد اسحاق نے صوبے بھر میں متوقع انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
اعلامیے کے مطابق اس ضمن میں نئی ڈیٹ شیٹ کا اعلان چند روز میں کردیا جائے گا۔
دوسری جانب بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن، سینیئر ایجوکیشنل اسٹاف ایسوسی ایشن، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن(آئینی)،وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن اور جونیئر ٹیچر ز ایسوسی ایشن نے چیئرمین بورڈ کی غیر قانونی تعیناتی کیخلاف انٹرمیڈیٹ کے امتحان کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں:
ان تنظمیوں کے مطابق ایپکا سمیت محکمہ تعلیم سے وابستہ تنظیمیں بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایکٹ 2019 کے برخلاف چیئرمین کی تعیناتی کے خلاف ایف اے اور ایف ایس سی کے امتحانات کا مکمل بائیکاٹ کریں گی۔
اپنے احتجاج کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مذکورہ تنظیموں نے میٹرک کے پیپرز کی مارکنگ بھی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کے مطابق چیئرمین بورڈ کی تعیناتی کیخلاف احتجاج کا سلسلہ ان کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن کی منسوخی تک جاری رہےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایپکا ایف ایس سی ایف اے بائیکاٹ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میٹرک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایپکا ایف ایس سی ایف اے بائیکاٹ بلوچستان میٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔