چین کے ساتھ اسپیس ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اسپیس ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے چین کی اسپیس ٹیکنالوجی کمپنی گلیکسی اسپیس کے وفد نے چیئرمین زو منگ کی قیادت میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے اور چین پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف: چین کا امریکا کے خوشامدی ممالک کو سزا دینے کا اعلان
گلیکسی اسپیس کے وفد نے پاکستان کی اسپیس ٹیکنالوجی انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام اور سپارکو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی مفید قرار دیا۔وفد نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ، مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیس ٹیکنالوجی پاکستان چین گلیکسی اسپیس وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیس ٹیکنالوجی پاکستان چین گلیکسی اسپیس وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اسپیس ٹیکنالوجی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔